The news is by your side.

Advertisement

آج عدم تشدد کا عالمی دن منایا جارہا ہے

کراچی: آج  دنیا بھر میں عدم تشدد کا عالمی دن منایا جارہا ہے ‘ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا میں عدم، تشدد کے رویے کو فروغ دینا ہے۔

جنوری 2004 میں ایرانی نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی نے تجویز دی کہ عدم تشدد کا عالمی دن منا یا جائے‘ ان کی اس تجویز کو بھارت میں بے پناہ پذیرائی ملی اور اس کی جانب سے یہ تجویز اقوام متحدہ کے سامنے پیش کی گئی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 جون 2007 کو 2 اکتوبر کو عدم تشدد کا عالمی دن قرار دینے پر ووٹنگ کرائی جسے پذیرائی ملی اور اقوام متحدہ نے اپنے ممبر ممالک کوعدم تشدد کو فروغ دینے کے لیے یہ دن منانے کی اپیل کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دن بھارت کے سیاسی رہنما گاندھی کا یومِ پیدائش ہے اور اسے بھارت میں’ گاندھی جیانتی‘ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ تاہم عدم تشدد کا درس دینے والے گاندھی کا بھارت تشدد ترک کردینے پر ہرگز آمادہ نظر نہیں آتا۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد سے حریت کی آگ ایک بار پھر پورے شدو مد سے بھڑک رہی ہے اور ساری دنیا سے عدم تشدد کا عالمی دن منوانے کے لیے قرار داد پیش کرنے والا بھارت ان کشمیریوں پر بدترین ریاستی تشدد کررہا ہے جنہیں وہ بزعم خود اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔

برہان وانی کی شہادت کے بعد عوامی احتجاج کو دبانے کے لیے بھارتی حکومت نے وادی میں کرفیو نافذ کررکھا ہے اور انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کی ہوئی ہے، طویل کرفیو کے سبب کشمیری عوام اشیائے ضرورت کے لیے بھی ترس چکے ہیں۔

بھارت نے مظالم کا دائر ہ وسیع کررکھا ہے اور کشمیریوں کے خلاف روایتی اسلحے کے ساتھ پیلٹ گن کا بھی بےدریغ استعمال کیا جارہا ہے جس سے جہاں ایک جانب سو سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں وہیں سینکڑوں کشمیری اپنی آنکھوں سے محروم ہوچکے ہیں۔

عدم تشدد کے عالمی دن پر پوری دنیا میں سیمینار اور والک کا انعقاد کیا جاتا ہے تاہم اگر آج کے دن مسئلہ کشمیر اقوامِ عالم کے ایجنڈے پر نہیں ہے تو پھر اس دن کو منانے کی کو ئی تک باقی نہیں رہتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں