The news is by your side.

Advertisement

انٹرپول نے اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ کے لیے مزید دستاویزات مانگ لیں

اسلام آباد : انٹرپول نے سابق وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ کے اجراءکے لئے مزید دستاویزات طلب کرلیں، جس کے بعد وزارت داخلہ کی نیب کو مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی کی ہدایت کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انٹرپول نے سابق وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ کے اجراءکےلئے مزید دستاویزات طلب کرلیں، اس سلسلے میں وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت کے حکم پر وزارت داخلہ نے سینیٹر اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ کی منظوری دی تھی اور اس کےلئے نیب کی طرف سے ارسال کیا گیا ریفرنس انٹرپول کو بھیج دیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کو ملزم کے ریڈوارنٹ کے اجراءکےلئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی تھی۔

ذرائع کے مطابق انٹرپول نے سینیٹر اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ کے اجراءکےلئے فراہم کی گئی دستاویزات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید دستاویزات طلب کرلی ہیں اور اس حوالے سے باضابطہ طور پر ایک خط وزارت داخلہ کو بھجوایا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے انٹرپول کے خط کی روشنی میں نیب کو مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی کی ہدایت کی ہے تا کہ ملزم کے ریڈ وارنٹ کے اجراءکو یقینی بناتے ہوئے انہیں برطانیہ سے پاکستان لایا جا سکے۔

مزید پڑھیں : نیب نے نواز شریف کے بیٹوں اور اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کی تیاریاں شروع کردیں

یاد رہے فروری میں نیب ذرائع کا کہنا تھا بیرون ملک فرار شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز، داماد عمران علی یوسف، اسحاق ڈار اور سابق چیف جسٹس افتخار  چودھری کے داماد مصطفیٰ امجد سمیت مفرور ملزمان کو وطن واپس لانے کے لیے نیب نے ایک بار پھر انٹرپول سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نیب کے تمام بیوروز کو ہدایات جاری کر رکھی تھیں ، جس پر فرار ملزمان کی واپسی کے لیے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ پاکستان اسحاق ڈار کے خلاف نیب کورٹ میں آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس زیر سماعت ہے، اسحاق ڈار 3 مارچ کو سینیٹ انتخابات سے قبل طبیعت کی خرابی کے باعث لندن چلے گئے تھے، جس کے بعد تاحال اسحاق ڈار لندن میں ہی مقیم ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے اثاثہ جات ریفرنس میں اشتہاری اور مفرور ملزم و سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے ان کا پاسپورٹ بھی بلاک کردیا تھا جبکہ انٹرپول کے ذریعے لندن سے گرفتار کرکے وطن واپس لانے کے لیے ریڈ وارنٹ بھی جاری کیے ہوئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں