The news is by your side.

Advertisement

انٹرپول کا سری لنکا میں دھماکوں کی تحقیقات کیلئے ماہرین بھیجنے کا اعلان

کولمبو : سری لنکا میں حملوں کے بعد ساری ریاستی سیکیورٹی کو تبدیل کیا جا رہا ہے, انٹرپول نے دھماکوں کی تحقیقات کے لیے ماہرین کی ٹیم سری لنکا بھیجنے کا بھی اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق مسیحی برادری کے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر دنیا بھر کی طرح سری لنکا میں بھی مسیحی برادری خوشیاں منارہی تھی جو اس وقت غم میں تبدیل ہوگئیں جب دہشت گردوں نے گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں دھماکے کیے جس کے نتیجے میں 360 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سری لنکن حکام نے نیشنل توحید جماعت پر حملوں کا الزام لگایا ہے، حکومت نے مقامی تنظیم کو ذمہ دارٹھہراتے ہوئے مشتبہ خودکش بمبار کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی ہے۔

دوسری جانب انتہا پسند تنظیم داعش نے سری لنکا کے گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر کیے گئے 8 دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی تاہم حکومت اپنے موقف پر قائم ہے کہ کارروائی نیشنل توحید جماعت کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 360 ہو گئی۔ سری لنکا میں بدترین حملوں کے بعد سربراہان مملکت نے سیکیورٹی اداروں کے سربراہان کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر سری سینا کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے سربراہان 24 گھنٹوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا جن آفیشلز نے ان کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر نہیں کیں ان کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم نے کہا کہ حملوں کے تانے بانے بیرون ملک سے ملتے ہیں جس میں داعش کا ایک گروپ ملوث ہو سکتا ہے، انٹرپول نے دھماکوں کی تحقیقات کے لیے ماہرین سری لنکا بھیجنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خب رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سری لنکن حکام نے اب تک 58 مشتبہ افراد کو دھماکوں میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق داعش نے سری لنکا میں ایسٹر کے تہوار پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم دعوے کے ثبوت میں خود کش بمبار کے نام اور دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

داعش کی نمائندہ خبر ایجنسی ہونے کے دعویدار ’عمق‘ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا امریکی اتحادی ہے جہاں کیے گئے خود کش دھماکے داعش جنگجوﺅں نے کیے تاہم پریس ریلیز میں دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب سری لنکا کی حکومت تاحال اپنے سابقہ موقف پر قائم ہے جس میں مقامی شدت پسند تنظیم التوحید کو دھماکوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور خود کش بمباروں کے سری لنکن شہری ہونے کا دعوی کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عمق کی جانب سے داعش کی نمائندگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے تاہم اس دعوے کا کوئی مستند ثبوت نہیں نا ہی داعش رہنماﺅں نے کبھی عمق کو اون کیا ہے۔ سری لنکا حکومت کی جانب سے خود کش بمباروں کی شناخت ظاہر کرنے کے بعد عمق یا حکومتی دعوﺅں میں سے کسی ایک کی تصدیق ہوسکے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں