The news is by your side.

Advertisement

انتظار قتل کیس میں 2 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت، 6 کو عمرقید

کراچی: انسداددہشت گردی عدالت نے 2018 میں پیش آنے والے انتظارقتل کیس کا بڑا فیصلہ سنا دیا ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے اور شواہد کے بعد فیصلے میں دو پولیس اہلکاروں کو سزائےموت سنا دی ‏جب کہ 3انسپکٹر سمیت 6 اہلکاروں کو عمر قیدکی سزا سنائی ہے۔ ‏

فیصلے میں عدالت نے عمرقید کےساتھ 2،2 لاکھ روپےجرمانےکا بھی حکم دیا ہے۔ ایک پولیس اہلکارغلام عباس کو ‏عدم شواہد پر بری کیا گیا۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں انتظار قتل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جب اینٹی کار لفٹنگ فورس (اے سی ‏ایل سی) کے چار اہل کاروں نے نامعلوم کار پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ملائشیا سے آنے والا انتظار نامی ‏نوجوان جاں بحق ہو گیا تھا۔

خبر میڈیا میں آنے کے بعد اس پر شدید ردعمل آیا، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، مگر انتظار کے ‏والد نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا. فروری میں‌ ‏وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پرنئی جےآئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا.‏

مارچ کے اوائل میں واقعے کی عینی شاہد مدیحہ کیانی کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جسے کیس کی تفتیش میں‌ اہم ‏موڑ قرار دیا گیا تھا. اس ویڈیو کے بعد کیس میں‌ چند نئے نام سامنے آئے، البتہ بعد میں‌ مدیحہ کیانی نے بیان ‏دیا کہ اُنھوں‌ نے انتظار کے اہل خانہ کے دبائو میں‌ یہ ویڈیو بنائی تھی، یوں تفتیش عمل پھر ڈیڈلاک کا شکار ‏ہوگیا.‏

انتظار قتل کیس میں‌ تین انسپکٹرز سمیت آٹھ پولیس اہل کاروں‌ کو برطرف کر دیا گیا تھا برطرف کئے جانے والوں ‏میں انسپکٹرطارق رحیم، انسپکٹرطارق محمود اور انسپکٹر اظہر حسین شامل تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں