The news is by your side.

Advertisement

انوپیاٹ، جدید طرزِ معاشرت اور تمدّن اپنا رہے ہیں!

ترقّی پذیر اور غریب ممالک میں تو آبادی کا ایک طبقہ خانہ بہ دوش اور انتہائی دور افتادہ مقامات پر کچّے مکانات یا جھونپڑیوں میں غیرمتمدِّن انداز میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، لیکن دنیا کے ترقّی یافتہ اور متمدِّن ممالک میں بھی دور دراز مقامات پر ایسے لوگ بستے ہیں جو جدید معاشرت اور تمدّن سے ناآشنا ہیں۔

ہم بات کررہے ہیں اِنوُاِٹ (inuit) یا انوپیاٹ کی جو دنیا کے مختلف ممالک میں رہتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں‌ ہم انھیں انتہائی سرد علاقوں کے قدیم باشندے کہتے ہیں۔

انوپیاٹ قطب شمالی میں مشرقی سائبیریا سے الاسکا، کینیڈا اور گرین لینڈ تک بستے ہوئے ہیں۔ انھیں جغرافیائی بنیاد پر مختلف گروہوں میں‌ تقسیم کیا گیا ہے جن میں شمالی امریکا کے قطبی حصّے میں رہنے والے دنیا بھر میں‌ “اسکیمو” کے نام سے مشہور ہیں۔

کینیڈا میں انوپیاٹ کی آبادی لگ بھگ 60، گرین لینڈ میں 50 اور الاسکا میں 35 ہزار ہے۔ دنیا کے سرد علاقوں کے ان باسیوں کے مختلف گروہوں کی بولی کے مختلف لہجے ہیں اور ان کے رسم و رواج میں بھی فرق ہے۔ تاہم جسمانی اور تہذیبی طور پر کم و بیش یکساں ہیں۔ ان کے چہرے منگولیائی ہیں اور یہ جسمانی ساخت کے لحاظ سے ایشیائی معلوم ہوتے ہیں۔

یہ ہزاروں سال سے سرد موسم اور سخت ترین ماحول میں زندگی کا سفر طے کرتے آئے ہیں اور خود کو اپنی سَرزمین کا اصل اور حقیقی وارث تصوّر کرتے ہیں۔ صدیوں کے دوران انوپیاٹ ثقافت اور طرزِ زندگی ایسا رہا کہ آج بھی انھیں جدید دنیا سے الگ آبادی سمجھا جاتا ہے۔

قطب شمالی اور دیگر انتہائی سرد علاقوں میں ان کا طرزِ زندگی قدیم اور روایتی ہے۔ یہ مویشی پالتے ہیں، مچھلیاں اور جانور ان کی غذائی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ انوپیاٹ شکار کے ماہر ہوتے ہیں۔ ان کے کپڑے، کھانے پکانے کے طریقے دیسی ہیں جب کہ شکار کیے ہوئے جانوروں سے ہی یہ ہر قسم کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ ان کی کھال کو پہننے اوڑھنے کے قابل بناتے ہیں، ان کی چربی سے جلانے کا تیل حاصل کرتے ہیں اور مختلف اشیا تیار کرتے ہیں۔ روایتی ہتھیار استعمال کرنے والے انوپیاٹ موسم اور ضرورت کے مطابق خود کو ڈھالنا جانتے ہیں، یہ اکثر کچا گوشت بھی کھا لیتے ہیں۔

اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے انھیں اکثر خاصی مسافت بھی طے کرنا پڑتی ہے۔ سامان ڈھونے کے لیے یہ ایک قسم کی بغیر پہیّے کی گاڑی استعمال کرتے ہیں جو ان کے سدھائے ہوئے کتّے کھینچتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں رہتے ہیں جن کا ایک سردار بھی ہوتا ہے۔

اسکیمو یا انوپیاٹ کی کوشش ہوتی ہے کہ شکار کے جانور کی ہر چیز استعمال میں‌ لائی جائے۔ یہ جانوروں کا احترام کرتے ہیں جس کے پیچھے تصوّر یہ ہے کہ شکار کی تکریم کی جائے تو اس کی روح اگلے جانور میں منتقل ہوگی اور ایسا نہ کیا تو وہ ایک شیطان یا نقصان پہنچانے والے جانور کے طور پر دوبارہ جنم لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شکار کی کسی بھی چیز کو ضایع کرنے اور پھینکنے سے گریز کرتے ہیں۔

ان کے رسم و رواج اور طور طریقے جدید دنیا سے بہت مختلف ہیں۔ تاہم اب بدلتے ہوئے حالات، ماحولیاتی تبدیلیاں اور مسائل و دیگر عوامل ان کے طرزِ زندگی پر اثر انداز ہورہے ہیں اور کینیڈا و دیگر علاقوں کے سرد مقامات پر انوپیاٹ باقاعدہ گھر بنا کر گزر بسر کرنے پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔

انوپیاٹ صدیوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی مختلف کہانیوں پر یقین رکھتے آئے ہیں۔ یہ اپنے رفتگاں کی جرأت، بہادری اور شجاعت کے واقعات، قصّے اور نصیحت و سبق آموز کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں اور یہی کچھ اپنی نسل تک پہنچاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں