The news is by your side.

Advertisement

ناظم جوکھیو قتل کیس میں اہم موڑ ، تحقیقاتی ٹیم کو تبدیل کردیا گیا

کراچی : ناظم جوکھیو قتل کیس میں اہم موڑ آگیا ، مدعی افضل جوکھیو کی درخواست پر نئی تین رکنی ٹیم تشکیل دے کر پرانی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ختم کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ناظم جوکھیو قتل کیس کی تفتیش میں مدعی مقدمہ کی جانب سے عدم اطمینان کےاظہار کے بعد نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی اور اس حوالے سے ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن سندھ عاصم قائمخانی کی جانب سے حکمنامہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔

جس میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی رینج، بورڈ کی منظوری کے بعد تحقیقاتی ٹیم کو تبدیل کیا گیا ہے، ناظم جوکھیو کے بھائی نے کیس کی پیش رفت اور تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تحقیقاتی ٹیم تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔

درخواست میں اے آئی جی فنانس تنویر عالم اوڈھو ، انسپکٹر سراج لاشاری اور ڈی ایس پی غلام علی جمانی کے نام پیش کیے تھے اور کہا تھا کہ تفتیش متعلقہ افسران کو سونپی جائے۔

جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے بنائے گئے بورڈ نے درخواست منظور کرتے ہوئے قانون کے مطابق تفتیش میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔

حکمنامے کے مطابق انسپکٹر سراج لاشاری حیدرآباد اور ڈی ایس پی غلام علی جمانی سکھر سے تعلق رکھتے ہیں ، ٹیم کے دونوں ارکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اے آئی جی فنانس تنویر عالم اوڈھو کو کیس سے متعلق باقاعدہ رپورٹ کریں گے جب کہ تنویر عالم اوڈھو کو کیس منصفانہ طریقے سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے جی ہدایت بھی کردی گئی۔

نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کے بعد پرانی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم خود بخود تحلیل ہو جائے گی، ذرائع کے مطابق تین رکنی ٹیم پرانی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے اب تک ہونے والی تمام تفصیلات حاصل کرے گی اور فورا اپنا کام شروع کرے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں