The news is by your side.

Advertisement

جمال خاشقجی قتل، اقوام متحدہ کا سعودی حکومت سے اوپن ٹرائل کا مطالبہ

نیویارک: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کمیٹی نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمال خاشقجی قتل کیس میں گرفتار ملزمان کے نام فوری طور پر سامنے لائے اور مقدمے کا  اوپن ٹرائل کرے۔

تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ماہرین برائے انسانی حقوق نے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی صحافی کے قتل کے الزام میں گرفتار 11 ملزمان کے کیس کی سماعت کو خفیہ نہ رکھا جائے۔ ماہرین نے کیس کی خفیہ سماعت کو عالمی معیار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اوپن ٹرائل کا مطالبہ بھی کیا۔

جمال خاشقجی قتل کی تفتیش کے لیے تشکیل دی جانے والی اقوام متحدہ کی تین رکنی کمیٹی نے حراست میں لیے گئے تمام ملزمان کا نام فوری طور پر سامنے لانے کا بھی مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: جمال خاشقجی کی لاش، تندور میں جلا کر راکھ کی گئی

تفتیشی ٹیم کے سربراہ اگنیس کیلا مارڈ کا کہنا تھا کہ ’سعودی حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ وہ مقدمے کی خفیہ سماعت کر کے عالمی برادری کو مطمئن کردے گی تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے، ہمیں مقدمے کی ایسی سماعت چاہتے ہیں جو عالمی قوانین کے تحت کی جاتی ہے‘۔

کیلا مارڈ نے سعودی حکومت کو خبرادار کیا کہ ’اگر مقدمے میں انسانی حقوق اور انصاف کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تو عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل طے کیا جائے گا’۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے امریکی اخبار کے لیے لکھنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس کی تفتیش کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ عالمی برادری نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کمیٹی سے مکمل تعاون کرے۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی قتل کیس، تحقیقاتی رپورٹ جون میں جاری ہوگی، تحقیقاتی ٹیم اقوام متحدہ

یاد رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ سال ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے جس کے بعد وہ گمشدہ ہوگئے تھے، بعد ازاں اُن کے قتل کی خبر آئی۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی سعودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے صحافی کے قتل کی ترکی میں شفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں