The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: کرونا وائرس بحران کے باوجود 50 ارب ریال کی سرمایہ کاری

ریاض: کرونا وائرس کے بحران کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم اس کے باوجود سعودی عرب میں سال رواں کے آغاز سے اب تک 50 ارب ریال سے زائد سرمایہ کاری کی جاچکی ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں الجبیل اور ینبع رائل کمیشن کے چیئرمین انجینیئر عبداللہ بن ابراہیم السعدان کا کہنا ہے کہ نئے کرونا وائرس کی وبا کے باوجود ینبع اور الجبیل میں 2020 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 50 ارب ریال سے زیادہ کا سرمایہ آچکا ہے۔

السعدان نے یہ بات سعودی ایوان ہائے صنعت و تجارت کونسل کے ماتحت صنعتی کمیٹی کے ارکان اور رائل کمیشن سٹیز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے ساتھ آن لائن اجلاس کے دوران بتائی۔

انجینیئر عبد اللہ بن ابراہیم السعدان نے کہا کہ سعودی حکومت نے کرونا کی وبا سے نمٹنے، اسے پھیلنے سے روکنے اور مقامی شہریوں و تارکین وطن کو اس سے بچانے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کیے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ملکوں اور عالمی تنظیموں نے کرونا کی وبا سے نمٹنے کے سلسلے میں سعودی اقدامات پر پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

السعدان نے مزید کہا کہ جدہ اسلامی بندرگاہ اور مشرقی افریقہ کی بندرگاہوں سے ینبع کی انڈسٹریل سٹی پورٹ کے درمیان جہاز رانی سے سرمایہ کاروں کو بڑا فائدہ ہوگا، اس کے اثرات بہت جلد نظر آنے لگیں گے۔

ان کے مطابق سرمایہ کار اپنی مارکیٹوں پر آسانی اور تیزی سے پہنچ سکیں گے اور لاگت بھی کم آئے گی۔

الجبیل اور ینبع رائل کمیشن کے چیئرمین نے بتایا کہ جازان بندرگاہ تیاری کے آخری مرحلے میں ہے اور آئندہ برس کے دوران کام کرنے لگے گی۔ سعودی آرامکو یہ منصوبہ تیزی سے مکمل کر رہی ہے۔

صنعتی علاقوں میں کام کرنے والے ورکرز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ رائل کمیشن میں لیبر سٹیز منصوبہ بندی کے تحت ہیں تاہم لیبر سٹیز سے باہر مقیم ورکرز کے حوالے سے کرونا بحران کے دوران مشکلات پیش آئیں۔

السعدان نے مزید بتایا کہ رائل کمیشن نے کرونا وبا کے آغاز ہی میں اسپیشل کمیٹیاں تشکیل دے کر ورکرز کی رہائش اور انہیں فیکٹریوں میں لانے لے جانے کے مسائل سائنسی بنیادوں پر حل کر لیے تھے، رہائشی مراکز میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے انتظامات تسلی بخش ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں