علامہ اقبال کا آفاقی کلام نامور گلوکاروں کی آواز میں -
The news is by your side.

Advertisement

علامہ اقبال کا آفاقی کلام نامور گلوکاروں کی آواز میں

شاعر مشرق، حکیم الامت اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کی 80 ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔

اقبال کی شاعری عام شاعری نہیں تھی، ان کا کلام آفاقی تھا جس نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کو سیاسی شعور عطا کیا، بلکہ اس وقت کی شاعری کو ایسی جہت عطا کی جس کی آج تک کوئی تقلید نہ کرسکا۔

اقبال کے کلام کو موسیقی کی صورت بھی پیش کیا گیا اور کئی گلوکاروں نے اقبال کا کلام گا کر اپنے فن کو شہرت دوام بخش دی۔

یہاں ہم اقبال کا وہ کلام پیش کر رہے ہیں جنہیں مختلف گلوکاروں نے گایا جس کے بعد ان کا کلام نئی نسل میں بھی مقبول ہوگیا۔


شکوہ ۔ جواب شکوہ

علامہ اقبال کی مشہور نظموں شکوہ اور جواب شکوہ کو عظیم گلوکار استاد نصرت فتح علی نے گایا۔ اس نظم میں ایک انسان خدا سے شکوہ کر رہا ہے، اور بعد ازاں خدا اس شکوے کا جواب دے رہا ہے۔

اقبال کا آفاقی کلام اور نصرت فتح علی خان کی جاودانی آواز نے مل کر اسے ایک سحر انگیز گیت بنا دیا۔


خودی کا سر نہاں

علامہ اقبال کی ایک اور مشہور نظم ’خودی کا سر نہاں‘ شفقت امانت علی اور صنم ماروی نے گائی۔


ہر لحظہ ہے مومن

سنہ 1965 میں پاک بھارت جنگ کے دوران ملکہ ترنم میڈم نور جہاں نے اقبال کا ایک نغمہ ’ہر لحظہ ہے مومن‘ گایا۔ اس نغمے نے فوج کے جوانوں اور قوم کا حوصلہ بے حد بلند کردیا۔


ستاروں سے آگے

نظم ’ستاروں سے آگے‘ راحت فتح علی خان نے گائی۔


لا پھر اک بار وہی

اقبال کی ایک اور نظم ’لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی‘ کو مشہور گلوکارہ شبنم مجید نے نہایت خوبصورت انداز میں گایا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں