The news is by your side.

ایران حجاب کے قانون کا ازسرنو جائزہ لینے پر آمادہ ہو گیا

تہران: ایران حجاب کے قانون کا ازسرنو جائزہ لینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران نے حجاب سے متعلق سخت قانون کا جائزہ لینا شروع کر دیا، ایرانی اٹارنی جنرل محمد جعفر منتظری نے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ حجاب کے حوالے سے بنائے گئے قانون کا جائزہ لے رہی ہے۔

انھوں نے کہا ’پارلیمنٹ اور عدلیہ دونوں اس معاملے پر کام کر رہی ہیں اور جائزہ لے رہی ہیں کہ کیا اس قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی بھانجی کو گرفتار کر لیا گیا

حجاب کے قانون میں کسی ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے اٹارنی جنرل نے کچھ نہیں کہا، تاہم اس سلسلے میں بنائی گئی جائزہ کمیٹی بدھ کو پارلیمنٹ کے ثقافتی کمیشن سے ملاقات کر چکی ہے، اور ایک یا دو ہفتوں میں اس کا نتیجہ سامنے آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں گزشتہ دو ماہ سے اس قانون کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، مظاہروں کے دوران خواتین نے اپنے حجاب بھی جلائے، سخت قانون کے رد عمل میں بعض خواتین نے احتجاجاً حجاب پہننا ہی چھوڑ دیا۔

16 ستمبر کو بائیس سالہ کُرد ایرانی خاتون مہیسا امینی کو پولیس حراست میں قتل کیا گیا تھا، انھیں اس بات پر گرفتار کیا گیا تھا کہ اسکارف مناسب طریقے سے کیوں نہیں لیا۔

مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے حوالے سے ناروے کے شہر اوسلو میں موجود ’ایران ہیومن رائٹس‘ نے منگل کو کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے کم از کم 448 افراد کو ہلاک کیا ہے، جب کہ ایرانی پاسدرانِ انقلاب کے ایک جنرل نے رواں ہفتے پہلی مرتبہ کہا تھا کہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں