The news is by your side.

Advertisement

امریکی پابندیوں پر ایران کا رد عمل اس کا قانونی حق ہے: روس

ماسکو: امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ اقتصادی پابندیوں پر ایران کا ردعمل قانونی حق ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں شدت آچکی ہے، دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یورپ نے ایران اور امریکا پر دباؤ دیا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے، موجودہ صورت حال جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

خلیجی فارس اور مشرق وسطی کے دیگر خطوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو حالیہ بحران پر کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کرائی۔

ایک بیان میں پیوٹن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روس کی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور ایران کے 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے رد عمل کو قانونی قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر سیّد علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آمنا سامنا کسی فوجی مڈ بھیڑ کے بجائے دراصل عزم کا امتحان ہے۔

جنگ ہوگی نہیں اور مذاکرات ہم نہیں کریں گے، سپریم لیڈر سیّد علی خامنہ ای

سپریم لیڈر کا ملک کے اعلیٰ افسران سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان آمنا سامنا کسی فوجی مڈ بھیڑ کے بجائے دراصل عزم کا امتحان ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں