The news is by your side.

ایرانی ہیکروں کا برطانیہ کے مختلف اداروں کے بنیادی ڈھانچے پر سائبر حملہ

لندن : برطانوی حکام نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی انقلابی فورسز کے ہیکروں نے برطانیہ کے بنیادی ڈھانچے پر سائبر حملہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی رکن پارلیمنٹ اور سیاسی رہنماؤں کے اسمارٹ فونز اور دیگر برقی آلات کو گزشتہ برس ایرانی ہیکروں نے سائنر حملوں کا نشانہ بناکر معلومات (ڈیٹا) چوری کرنے کی کوشش کی تھی۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی ہیکروں کی جانب سے رواں برس کے آغاز پر بھی اسپیشل سیکٹر کی کمپنیوں کو نشانہ بنایا تھا جن میں بینک، لوکل حکومت بھی شامل ہیں۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، 23 دسمبر 2018 کو ایرانی ہیکروں نے پوسٹ آفس، لوکل گورنمنٹ کے آن لائن نیٹ ورک اور مختلف کمپنیوں پر سائبر حملہ کیا۔

اسکائے نیوز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کے کو سال 2018 کے آخر میں ایرانی ہیکروں کی جانب سے کئے گئے حملے کا علم ہے۔

نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر متاثرہ کمپنیوں اور افراد کے ساتھ سائبر حملے کے نقصانات کم کرنے کے لیے صلاح مشورہ کررہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں میں ایرانی ہیکرز کی جانب سے برطانیہ کے آن لائن ڈاک سسٹم، ہزاروں ملازمین کا موبائل ڈیٹا چوری کرنے اور کئی کمپنیوں کو غیر معمولی نقصان سے دوچار کیا ہے۔

مزید پڑھیں : سائبر حملوں میں روسی خفیہ ایجنسی ’جی آر یو‘ ملوث ہے، برطانیہ کا الزام

خیال رہے کہ اس سے قبل برطانیہ نے  روس پر بھی سائبر حملوں کے الزامات کی بوچھاڑ کی تھی، برطانیہ کی نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ سائبر حملوں میں روسی خفیہ ایجنسی ملوث ہے۔

نیشنل سائبر سیکیورٹی سینیٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی خفیہ ایجنسی کے سائبر حملوں کے متاثرین میں روس اور یوکرائن کے بڑے کاروباری مرکز، امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی اور برطانیہ کے ایک چھوٹے ٹیلیویژن نیٹ ورک بھی شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں