The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، ایران نے بے بسی میں عالمی ادارے سے بڑا مطالبہ کردیا

تہران: ایران کی حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈز  (آئی ایم ایف) کو قرض کی درخواست دے دی۔

بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران نے 60 برس کی تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف سے رجوع کیا کیونکہ آخری بار 1960 میں حکومت نے قرض حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔

ایران میں آج کرونا وائرس کے 75 مریضوں کی ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد اموات کی تعداد 429 تک پہنچ گئی، ایک ہزار نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد بھی 10 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

نشریاتی ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق 1960 کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایران نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا ہو۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس نے ایران میں ایک اور رکن پارلیمنٹ کی جان لے لی

ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالنصر حماتی کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ریپڈ فناسنگ ڈیپارٹمنٹ انسٹرومنٹ سے 5 ارب ڈالر فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کرونا پر قابو پانے اور اس کی روک تھام کے لیے پچاس ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا ہے، ہم حاصل ہونے والی رقم سے مختلف اقدامات کریں گے تاکہ وائرس پر قابو پاسکیں۔

مرکزی بینک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایران نے 1960 میں آخری بار آئی ایم ایف سے قرض حاصل کیا تھا جسے ادا کردیا گیا اور اس وقت ہم پر عالمی مالیاتی فنڈز کے کوئی بقایا جات نہیں ہے۔

عبدالنصر حماتی کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس یورپ اور دیگر ممالک بینکنگ ذرائع ہیں، آئی ایم ایف بات کر کے رقم اُن اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کرسکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ’امید ہے آئی ایم ایف ایران کی درخواست پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا اور تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑے ہوتے ہوئے ہماری استدعا پر غور کیا جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس سے متعلق ایرانی صدر کا تہلکہ خیز انکشاف

یاد رہے کہ ایران پر امریکا اور عالمی اداروں کی جانب سے معاشی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف اس درخواست کو مسترد کردے گا۔

واضح رہے کہ چین اور اٹلی کے بعد اب تک ایران میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، مرنے والوں میں ایرانی رکن پارلیمنٹ فاطمی رہبر بھی شامل ہیں جب کہ ایران کی نائب صدر برائے خواتین سمیت متعدد اراکین پارلیمنٹ میں وائرس کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں