The news is by your side.

Advertisement

ایران کا یورینیم افزودہ کرنے کی مخصوص حد سے دوبارہ تجاوز کرنے کا اعلان

تہران: ایران نے چند گھنٹوں میں 2015 میں عالمی طاقتوں سے کیے گئے معاہدے کے تحت یورینیم افزودہ کرنے کی حد سے تجاوز کرنے کا اعلان کردیا۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی اٹامک ایجنسی کے ترجمان بہروز کمال وندی نے کہا کہ نئی سطح پر یورینیم افزودہ کرنے سے متعلق تکنیکی تیاریاں چند گھنٹوں میں مکمل ہوجائیں گی اور 3.67 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ کی جائے گی۔

بہروز کمال وندی نے کہا کہ علی الصبح جب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نمونہ حاصل کرے گی تو ہم 3.67 فیصد سے آگے بڑھ چکے ہوں گے، ہم کسی بھی سطح اور مقدار میں یورینیم افزودہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس اراغچی نے کہا کہ تہران پر 60 دن بعد معاہدے پر عملدرآمد میں کمی کو جاری رکھے گا جب تک تمام فریقین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے بچانے کی کوشش نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے القاعدہ اور ایران کے تعلقات پر خلیجی ممالک کو خبردار کردیا

عباس اراغچی نے کہا کہ یورپی ممالک اپنے وعدوں پر پورا اترنے میں ناکام ہوگئے اور وہ بھی ذمہ دار ہیں، سفارتی تعلقات کے دروازے کھلے ہیں لیکن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ میں معاہدے کو بچانے کی سیاسی خواہش ہے، امریکی پابندیوں کے متبادل حل کے لیے تجارتی طریقہ موجود ہے لیکن وہ اس وقت تک کارآمد نہیں جب تک یورپی ممالک اسے ایرانی تیل کی خریداری میں استعمال نہیں کرتے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیے گئے ٹویٹ میں کہا کہ ایران اپنے تمام اقدام کو واپس لے سکتا ہے اگر یورپی ممالک اپنے وعدوں پر پورا اتریں۔

جواد ظریف نے کہا کہ یورپی یونین کے تین فریقین کے پاس ٹھوس سیاسی موقف سے گریز، معاہدے کو بچانے اور امریکی یکطرفہ نظام کو روکنے کے لیے کوئی عذر موجود نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں