The news is by your side.

Advertisement

جوہری پروگرام پر تنقید کرنے پر ایران کا احتجاج، فرانسیسی سفیر دفترخارجہ طلب

تہران : ایران نے واشنگٹن میں تعینات فرانسیسی سفیر کی جانب سے تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات کرنے پر پیرس کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں متعین فرانسیسی سفیر جیراڈ اراوڈ کا مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹویٹر پر ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے پُر امن ہونے کی یقین دہانی کرانا ہوگی اور اسے سنہ 2025 کو جوہری معاہدہ ختم ہونے کے بعد بھی اپنا جوہری پروگرام پرامن رکھنا ہوگا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فرانسیسی سفیر کے اس بیان پر ایران نے فرانس کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا اور وزارت خارجہ نے تہران میں تعینات فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج بھی کیا۔

امریکا میں تعینات فرانسیسی سفیر نے مزید کہا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ایران کو سنہ 2025 کے بعد جوہری اسلحہ کی تیاری کا حق مل جائے گا اور وہ آزادانہ یورنیم افزودہ کر سکے گا۔

جیراڈ اراوڈ نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے اور اس کے اضافی پروٹوکول کے مطابق ایران کو اپنی تمام جوہری سرگرمیوں کی مسلسل معائنہ کاری کی اجازت دینا ہوگی۔

فرانسیسی سفیر نے روس پر ایران کے بو شہر جوہری پلانٹ میں یورینیم افزودہ کرنے میں مدد فراہم کرنے کا الزام بھی عاید کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو عالمی طاقتوں سے طے پائے سمجھوتے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اپنا جوہری پروگرام پرامن رکھنے کے اصول کی پابندی کرنا ہوگی۔

جیراڈ کے اس بیان پر ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں متعین سفیر فیلپ ٹیپو کو طلب کرکے فرانس کے امریکا میں متعین سفیر کے بیان پر شدید احتجاج کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے عہدیدار حسین سادات میدانی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں فرانسیسی سفیر کے ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق ریمارکس ناقابل قبول ہیں۔

حسین سادات کا کہنا تھا کہ فرانس کو اپنے سفیر کے بیان کی وضاحت کرنا ہو گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کے بعد اس ملک پر ماضی میں لگائی جانے والی اقتصادی پابندیاں دوبارہ بحال کردی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں