The news is by your side.

Advertisement

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران امریکا سے کیا چاہتا ہے؟

تہران: ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے باوجود ایران نے ایک بار پھر امریکا سے مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ ملکی وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت ہوسکتی ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران امریکا سے تاحال مذاکرات کا خواہاں ہے، ایران کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ لوگ اپنا نقطہ نظر تبدیل کریں اور حقائق سے دست بردار ہوں۔

اپنے ایک انٹرویو میں جواد ظریف کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون اٹیک میں ہمارا لیڈر مارا گیا لیکن اس کے باوجود ہم بات چیت سے پیچھے نہیں ہٹے، پابندیوں کے خاتمے کے بعد مذاکرات ممکن ہے۔

جنرل قاسم سلیمانی کا قتل، امریکی سینٹر کا صدرٹرمپ کے بیان پر شکوک کا اظہار

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا ہے، امریکی صدر ٹرمپ کو اپنا ماضی تبدیل کرنا ہوگا، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی شرط پر بات چیت ہوسکتی ہے اور مثبت نتیجہ بھی سامنے آئے گا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں عراقی دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ تھے۔

بعد ازاں جنرل سلیمانی کے قتل پر ایران نے امریکا پر جوابی وار کرتے ہوئے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے، واشنگٹن نے حملوں کی تصدیق کی، ایرانی پاسداران انقلاب نے جاری بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے درجنوں میزائلوں سے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، اڈوں پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے گئے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں