The news is by your side.

Advertisement

اہلِ سومیر: دنیا کے پہلے پڑھے لکھے لوگ

قدیم تہذیبوں اور ثقافتوں سے متعلق تحقیق کے بعد ماہرین نے عراق کی “سومیری” قوم کو دنیا کی سب سے پہلی پڑھی لکھی قوم مانا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سومیری وہ لوگ تھے جنھوں نے نہ صرف رسم الخط ایجاد کیا بلکہ تصویروں سے گفتگو اور مدعا بیان کرنے کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ اس ضمن میں یاسر جواد کے معلوماتی مضمون سے چند سطور آپ کی دل چسپی کے لیے پیش ہیں۔

اہل سومیر میں فنِ تحریر حیرت انگیز امر ہے۔ یہ شان دار فن کافی ترقی یافتہ معلوم ہوتا ہے۔ تجارت، شاعری اور مذہب کی پیچیدہ سوچ کو بیان کرنے کے لیے موزوں۔

قدیم ترین کندہ کاریاں پتھر پر 3600 قبلِ مسیح کی ہیں۔ 3000 قبلِ مسیح میں مٹی کی الواح نمودار ہوئیں اور اس وقت سے سو میری اس عظیم دریافت پر ہی شاداں رہے۔

یہ ہماری خوش قسمتی سے کہ میسو پوٹیمیا کے لوگوں نے نازک، عارضی کاغذ پر روشنائی سے نہیں بلکہ نہایت سبک دستی کے ساتھ گیلی مٹی پر سٹائیلوس (Stylus) سے کھود کر لکھا۔ اس تشکیل پذیر مواد کے ساتھ منشئ اپنے ریکارڈ رکھتا، معاہدے جاری کرتا، سرکاری دستاویزات لکھتا، جائیداد کے فیصلے اور فروخت درج کرتا ہے، اور ایک ایسی ثقافت تخلیق کی جس میں سٹائیلوس بھی تلوار جتنا طاقت ور بن گیا۔

منشی تحریر کا کام مکمل کرکے مٹی کی لوح کو آگ یا دھوپ میں پکاتا اور یوں اسے کاغذ سے زیادہ پائیدار مسودہ بنا لیتا۔ پائیداری کے اعتبار سے صرف پتھر اس سے بڑھ کر ہے۔ خط میخی (Cuneiform) کی یہ ترقی تہذیب پذیر نوع انسانی میں سومیر کی غیر معمولی حصہ داری تھی۔

سومیری تحریر دائیں سے بائیں جانب چلتی ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق اہل بابل اولین لوگ تھے جنھوں نے بائیں سے دائیں لکھا۔ خط دار طرز تحریر بدیہی طور پر قدیمی سومیری برتنوں پر منقش یا تصاویر اور علامتوں کی طرز اور رواج یافتہ صورت تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں