The news is by your side.

Advertisement

عراق: عوام کا احتجاج جاری، پارلیمنٹ میں نئے انتخابی قوانین کی منظوری

عراق میں پارلیمنٹ نے نئے انتخابی قوانین متعارف کروانے کے لیے منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب امیدوار انفرادی حیثیت میں بھی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔ اس سے قبل قانون کے مطابق ووٹرز صرف سیاسی جماعتوں کی فہرستوں میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار رکھتے تھے۔
عراق میں پارلیمان کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے اس سلسلے میں رائے دہی کے بعد بتایا کہ اب انتخابی اضلاع بھی بنائے جائیں گے۔

نئے انتخابی قوانین متعارف کروانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
عراق کے دارالحکومت بغداد اور ملک کے جنوبی حصے ميں لگ بھگ دو ماہ سے عوام سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملک میں انتخابی اصلاحات اور سیاسی تبدیلیاں کی جائیں جب کہ ملک میں ہر سطح پر نظام میں تبدیلی اور خاص طور پر بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت کی جانب سے نوکریاں دی جائیں اور عراقیوں کو بہتر شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

احتجاج سے کیا حاصل ہوا؟
عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد وزیرِاعظم عبدالمہدی نے استعفیٰ دے دیا جسے منظور کر لیا گیا۔
گزشتہ روز پارلیمان نے انتخابی قوانین میں تبدیلی کی منظوری دی ہے۔

مظاہروں کے دوران کیا ہوا؟
ان مظاہروں میں اب تک 450 سے زائد قیمتی انسانی جانیں ضایع ہو چکی ہیں۔
پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا ہے جب کہ احتجاج کا راستہ روکنے اور مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فورسز کی جانب سے طاقت کا استعمال بھی کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کی مذمت کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں