The news is by your side.

Advertisement

یونیورسٹی سے کیوں نکالا؟ طالب علم کے ہاتھوں دو پروفیسر قتل

عراق میں یونیورسٹی کے سابق طالب علم نے دو پروفیسر کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جبکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کے طالب علم نے کیمپس کے سامنے فیکلٹی آف لا کے ڈین پر فائرنگ کی جن کے سر اور سینے میں گولیاں لگیں انہیں اسپتال منتقل کیا جارہا تھا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

بعدازاں عراقی طالب علم نے اربیل کے ایک محلے میں واقع فیکلٹی آف انجینئرنگ کے پروفیسر کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پروفیسر ہلاک ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ’طالب علم ایک یونیورسٹی سے نکالے جانے اور دوسری یونیورسٹی میں ٹرانسفر کی درخواست مسترد ہونے پر ناراض تھا۔‘

اربیل کے گورنراومید خوشناؤ نے بتایا کہ ’طالب علم نے پہلے فیکلٹی آف لا کے ڈین کاوان اسماعیل پرصلاح الدین یونیورسٹی میں فائرنگ کی اور پھر صلاح الدین یونیورسٹی کی فیکلٹی آف انجینیئرنگ میں مکینکل کے پروفیسر ادریس عزت کے گھر میں گھس کرانہیں نشانہ بنایا‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان عادی مجرم اور کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔‘

فیکلٹی آف انجینیئرنگ کی ڈین نجاۃ احمد نے بتایا کہ’ پروفیسرادریس کی اہلیہ بھی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ شمالی اربیل کی سوران یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں، پروفیسرادریس کی اہلیہ نے دھمکی دینے پر نوجوان کے خلاف رپورٹ درج کرائی تھی اورعدالت سے رجوع کیا تھا‘۔

پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ سابق طالبعلم کا ارادہ پروفیسر ادریس کی اہلیہ کو قتل کرنے کا تھا جو اس وقت گھر پر موجود نہیں تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں