ملاوٹ شدہ چیزوں کی فروخت کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ ary qtv
The news is by your side.

Advertisement

ملاوٹ شدہ چیزوں کی فروخت، شرعی حکم کیا ہے؟

ہر دوسرا شخص آپ کو چیزوں میں ملاوٹ کا شکوہ کرتا نظر آئے گا کیونکہ ہمارے اردگرد فروخت کی جانے والی زیادہ تر اشیاء میں ملاوٹ کا عنصر ضرور پایا جاتا ہے۔

ہم اپنے اردگرد کا مشاہدہ کریں تو آٹے سے لے کر دودھ میں ملاوٹ کی باتیں سننے کو ملتی ہیں بعض اوقات تو اشیاء میں ملاوٹ ہوتی اپنے آنکھوں سے بھی دیکھ لیتے ہیں تاہم مجبوری کے تحت اُن اشیاء کو خریدنا پڑتا ہے۔

موجودہ دور میں ملاوٹ کرنے والے حضرات یہ بھی وضاحتیں دیتے نظر آتے ہیں کہ اگر ہم خالص اشیاء فروخت کریں گے تو اصل قیمت ملنا دور کی بات نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ساتھ ہی یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ خالص چیزیں کھانے سے لوگوں کی طبیعت خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

اشیاء میں ملاوٹ کرنے کے حوالے سے شرعی حکم کیا ہے؟

یہ سوال اےآر وائی کیو ٹی وی کے پروگرام میں مفتی اکمل قادری کے سامنے پیش کیا گیا۔

جواب: مفتی اکمل نے کہا کہ شرعی تعلیمات میں وہ ملاوٹ منع ہے جو کسی بھی شہ میں دھوکے کی غرض سے کی جائے تاہم اگر مطلقاً کسی چیز میں ملاوٹ کی جائے وہ جائز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر چیزوں میں ہرقسم کی ملاوٹ کرنے کا منع فرمایا جاتا تو خواتین گھروں میں جو مختلف چیزوں کو ملا کر اشیاء کی مقدار بڑھاتی ہے وہ عمل بھی گناہ میں شامل ہوتا تاہم ایسا نہیں ہے۔

مفتی اکمل نے کہا کہ اگر عوام کو کوئی چیز فروخت کی جارہی ہے تو اس میں بھی ملاوٹ کرنے کا حکم مختلف ہے، مالِ مقتوم یعنی اگر کسی شہہ میں کوئی بے کار چیز شامل کر کے اُسے فروخت کیا جائے تو یہ شرعی طور پر ممنوع ہے اسی طرح دیگر چیزوں کو ملا کر اگر کسی چیز کا وزن یا مقدار بڑھا دی جائے تو یہ اسلامی تعلیمات کے حساب سے گناہ کبیرہ اور حرام ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے سمجھایا کہ دودھ والا اگر دودھ میں ملائے جانے والے پانی کی مقدار کے بارے میں عوام صحیح کو بتائے گا تو اُس کی کمائی جائز ہوگی تاہم اگر اسے خفیہ رکھے تو یہ جھوٹ فریب اور دھوکا دہی میں شامل ہوگا۔

مفتی اکمل قادری نے مثال دیتے ہوئے سمجھایا کہ جہاں تک دودھ میں پانی ملانے اور سونے میں دھات شامل کرنے کا معاملہ ہے تو دکان والے کا بتانا اور خریدار کا پوچھنا لازم نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی مکمل جائز اور حلال ہوگی تاہم اگر اس ضمن میں غلط بیانی کی جائے گی تو یہ شرعی طور پر غلط ہوگا۔

مکمل ویڈیو دیکھیں


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں