The news is by your side.

Advertisement

کیا کرونا وائرس کسی لیبارٹری میں بنا؟ تحقیق سے کیا سامنے آیا

واشنگٹن: امریکی صدر کے دعوؤں کے برعکس امریکا کی انٹیلی جنس کمیونٹی نے کرونا وائرس کی تخلیق کے سلسلے میں بڑا اعتراف کر لیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی انٹیلی جنس کمیونٹی نے اعتراف کیا ہے کہ کرونا وائرس انسان کا تیار کردہ یا مصنوعی طریقے سے پیدا کردہ نہیں ہے۔

امریکا کے آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے وسیع سائنسی اتفاق رائے پایا جاتا ہے، یہ کمیونٹی بھی اس سے متفق ہے کہ کو وِڈ نائنٹین جینیاتی ترمیم کا نتیجہ نہیں، نہ ہی یہ وائرس انسان نے بنایا ہے۔

کرونا وبا کا آغاز ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی سے ہوا: ٹرمپ

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس کمیونٹی دستیاب معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ کرونا وائرس انسان کا تخلیق کردہ یا مصنوعی طریقے سے پیدا کردہ نہیں ہے۔

یو ایس انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ پوری انٹیلی جنس کمیونٹی مسلسل امریکی پالیسی سازوں اور کو وِڈ 19 کا مقابلہ کرنے والوں کو مدد فراہم کرتی رہی ہے، کمیونٹی نے ہمیشہ نیشنل سیکورٹی کرائسز کے دوران تحقیق اور تجزیے کے لیے وسائل کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس کمیونٹی سامنے آنے والی خفیہ معلومات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کرونا کسی متاثرہ جانور سے پھیلا یا ووہان کی ایک لیبارٹری میں ایک حادثے کا نتیجہ تھا۔

واضح رہے کہ اس وائرس کے بارے میں پہلے خیال تھا کہ یہ ووہان میں جانوروں کی مارکیٹ سے پھیلا تاہم اب خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر قریبی وائرس ریسرچ لیبارٹری سے پھیلا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں