site
stats
پاکستان

اسلام آباد دھرنا: کنٹینرز مالکان کا وزارتِ داخلہ کو خط

اسلام آباد: کنٹینرز مالکان نے وزارتِ داخلہ کو خط تحریر کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ دھرنا روکنے کے لیے انتظامیہ نے 200 کنٹینرز کرائے پر حاصل کیے اور ابھی تک اُن کی ادائیگی نہیں کی گئی۔

کنٹینرز مالکان کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو بھیجے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’مقامی انتظامیہ نے 200 کنٹینرز کچھ روز کے لیے کرائے پر حاصل کیے تاہم اُن کی ابھی تک ادائیگی نہیں کی گئی اور نہ ہی واپسی کی تاریخ کا اعلان کیا‘۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’کنٹینرز ریڈ زون، ایکسپریس وے، کشمیر ہائی وے اور دیگر شاہراؤں پر رکھے گئے، کام بند ہونے کی وجہ سے مزدور بھی پریشان ہیں‘۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ نےکنٹینرزمالکان کو یومیہ 15 لاکھ روپے کی ادا کرنے ہیں۔

یاد رہے کہ دو مذہبی و سیاسی جماعتوں (تحریک لبیک پاکستان اور پاکستان سنی تحریک) نے فیض آباد انٹر چینج پر گزشتہ 17 روز سے دھرنا دیا ہوا ہے، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ’وفاقی وزیر قانون زاہد حامد ختم نبوت کے قانون میں ترمیم پر فوری مستعفیٰ ہوں‘۔

دوسری جانب حکومت نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کسی بھی طاقت کے استعمال سے گریز کرنے کے لیے علماء و مشائخ کی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے تاہم دونوں فریقین کے مابین ہونے والے مذاکرات میں ابھی تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

مظاہرین نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہوا ہے کہ زاہد حامد اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوں گے تب ہی مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

مظاہرین اور پولیس کے مابین حالیہ جھڑپ

فیض آباد دھرنے کے شرکاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں ایف سی کے 4 اہلکار زخمی ہوئے، زخمی ہونے والے اہلکاروں میں  ایس پی صدر عامر نیازی بھی شامل ہیں۔

آخری اطلاعات موصول ہونے تک مظاہرین نے فیض آباد گارڈن ایونیو کے قریب کنٹینرز پر قبضہ کرلیا۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top