The news is by your side.

Advertisement

اینکر کے سوالات پر پاکستان سے مفرور اسحاق ڈار سٹپٹاگئے

لندن : بی بی سی کے پروگرام ہارڈٹاک میں اینکر کے سوالات پر اسحاق ڈار سٹپٹاگئے، اسحاق ڈار نے پہلے بیماری کا بتایا، پھر انسانی حقوق سے متعلق سوالات اٹھا دئیے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما و سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں اینکر کے سوالات پر ڈیر ہوگئے، اینکر نے جائیداد سے متعلق سوال کیا تو سابق وزیر خزانہ نے بیرون ملک جائیدادوں سے انکار کردیا۔

اسحاق ڈار نے اینکر کو بتایا کہ میری صرف پاکستان میں ایک جائیداد ہے جو موجودہ حکومت نے ضبط کرلی ہے، جس پر اینکر نے کہا کہ کیا آپ کی یا خاندان کی لندن اور دبئی میں کوئی جائیداد نہیں جس پر اسحاق ڈار کہنے لگے کہ ’نہیں میرے بچوں کا ولا ہے‘۔

اینکر نے سابق وزیر خزانہ سے وطن واپسی اور عدالتوں کا سامنا کرنے سے متعلق سوال کیا تو اسحاق ڈار نے پہلے بیماری کا بتایا اور پھر انسانی حقوق سے متعلق سوالات اٹھا دئیے۔

اسحاق ڈار کی توجیحات پیش کرنے کے باوجود اینکر نے پھر سوال کیا کہ اگر آپ کی ایک جائیداد، اکاونٹس کلیئر ہیں تو واپس جاکر کیسز کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ’میری طبعیت خراب ہے علاج کےلیے آیا ہوں‘۔

بی بی سی اینکر نے طبعیت کا سن کر سوال کیا کہ آپ برطانیہ میں تین سال سے ہیں؟ اب بھی واقعی بیمار ہیں۔ اینکر کے تابر توڑ سوالات پر اسحاق ڈار نے کہا کہ جی مجھے اب بھی تکلیف ہے، دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔

اینکر نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ کیا ممکن ہے آپ وطن واپس جائیں؟ لیکن اسحاق ڈار نے بات کو انسانی حقوق کی پامالیوں کی جانب گھوماتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے انسانی حقوق کی کیا صورتحال ہے۔

ہوسٹ نے سوال کیا کہ نواز شریف بھی آپ کی طرح میڈیکل گراونڈ پر لندن میں ہیں؟ رہنما مسلم لیگ ن نے جواب میں نیب پر دوران حراست بدسلوکی کا الزام عائد کیا جس پر اینکر نے اسحاق ڈار کو ٹوک دیا اور کہا کہ نواز شریف تو سزا یافتہ مجرم ہیں۔

اسحاق ڈار کی سپریم کورٹ فیصلے پر تاویلیں دینے کی کوشش پر بھی اینکر نے اسحاق ڈار کو آئینہ دکھا دیا اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر بھی مفرور سابق وزیر خزانہ کی تصیح کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں