The news is by your side.

27 ارب ڈالر کے دو طرفہ قرضوں کی ری شیڈولنگ چاہتے ہیں، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے پاکستان 27 ارب ڈالر کے دو طرفہ قرضوں کی ری شیڈولنگ چاہتا ہے، آئی ایم ایف سے حالیہ پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان 27 ارب ڈالر کے دو طرفہ قرضوں کی ری شیڈولنگ چاہتا ہے، ہم تقریباً ستائیس ارب ڈالر مالیت کے غیر پیرس کلب قرضوں کی ری شیڈولنگ کی کوشش کریں گے، ان میں زیادہ تر قرضے چین سے لیے گئے ہیں، جس میں کمی نہیں بلکہ صرف ری شیڈولنگ چاہتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے پاکستان کے قرض سے متعلق کسی بھی قسم کے ڈیفالٹ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قرض کے حوالے سے کسی بھی قسم کے ڈیفالٹ کا امکان نہیں، تاہم آئی ایم ایف کے حالیہ پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کریں گے جس کی قسط دسمبر میں ادا کرنی ہے۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ کثیر الجہتی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی عطیہ دہندگان تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کی بیرونی سرمایہ کاری کی 32 بلین ڈالر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس میں سے کچھ پہلے سے منظور شدہ، سست روی سے تقسیم کیے جانے والے ترقیاتی قرضوں سے فنڈز کی دوبارہ تقسیم سے حاصل ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے ملک میں بڑے پیمانے پرفصلیں متاثر ہوئی ہیں اور آئندہ سال گندم درآمد کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب ایک اور غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر خزانہ نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان کو تباہ کن سیلاب سے نکلنے میں ’تقریباً تین سال‘ لگ سکتے ہیں، جس میں 1,700 سے زائد افراد ہلاک اور 7.9 ملین بے گھر ہوئے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعے کو اے پی سے گفتگو میں کہا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 32 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کی لاگت 16 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں