The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کاکسی آف شورکمپنی میں نام نہیں، اسحاق ڈارکی تردید

اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے نام کوئی بھی آف شور کمپنی نہیں ہے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ حتمی فیصلہ نہیں ہے لہذا مخالفین تھوڑا صبرکریں۔

وہ اسلام آباد میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور معاون خصوصی ظفر اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے ذریعے جے آئی ٹی رپورٹ پراپنا ردعمل دے رہے تھے انہوں نے جے آئی ٹی کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کوحقائق کے منافی قراردیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جےآئی ٹی رپورٹ میں بہت خامیاں ہیں کیوں کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت سے خود بنائے گئے کاغذات ہیں جب کہ رپورٹ میں بعض کاغذات پر دستخط موجود نہیں ہیں اور اس رپورٹ میں ایسے کاغذات بھی ہیں جن میں پکوڑے بیچے جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ جےآئی ٹی کی رپورٹ حتمی فیصلہ نہیں مخالفین تھوڑا صبرکریں کیوں کہ ابھی فیصلہ آنا ہے اس رپورٹ کو ہم ہرسطح پرچیلنج کریں گے اس لیے سیاسی مخالفین بغلیں بچانے کے بجائے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظارکریں کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں سبکی نہ اٹھانا پڑ جائے۔


جےآئی ٹی کی مفصل رپورٹ پڑھیں  * 


انہوں نے کہا کہ نوازشریف اورعمران خان کے کیسزمیں ایشو ایک جیسا ہے لیکن خان صاحب عدالت میں حاضری کے بجائے حیلے نہانے بناکر تاریخ پر تاریخ لیے جا رہے ہیں لیکن ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور کل رات سے انہی کی جانب سے یہ تاثرپیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پیشی کے دوران میرا چہرہ مرجھایا ہوا تھا تو بھائی میں اس دن درجہ حرارت 40 سینٹئی گریڈ تھا اور روزہ تھا ویسے بھی میں چہرے پرجھریاں ختم کرانے والے انجیکشن نہیں لگواتا۔

اسحاق ڈرا نے کہا کہ ایف بی آر نے میرے متعلق ویلتھ اسٹیٹمنٹ دیا لیکن ٹیکس ریٹرن نہیں بھیجے کیوں کہ جب مشرف دور میں میرے گھر سے نیب تمام ریکارڈ اٹھا کر لے گیا تھا جس پر میں نے جےآئی ٹی کو بھی کہا تھا کہ نیب کا نمائندہ آپ کےساتھ ہے ان سے پوچھیں کہ ٹیکس ریٹرن کہاں ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جےآئی ٹی میں پیش ہونے کے بعد ایف بی آر کو خط لکھا لیکن اب تک مجھے ٹیکس ریٹرن کی کاپی نہیں بھیجی گئی تاہم میرا1981سے2001تک ٹیکس ریٹرن کا ریکارڈ نیب سے ملا جسے 8 جولائی کو جے آئی ٹی کو میں نے خود بھیجو ادیا تھا اور جے آئی ٹی سے کہا میں ایف بی آر کے خلاف کارروائی کروں گا

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پروفیشنل آدمی ہوں، ٹیکس چوری نہیں کرتا اور نہ ہی براق ہولڈنگزمیں میری کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے اس کے علاوہ کئی ایسی چیزیں ہیں جو نہیں پوچھی گئیں لیکن ان تمام چیزوں کا بھی میرے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے اس لیے سپریم کورٹ سے درخواست کروں گا کہ کسی بہترین فرم سے ان کاغذات کی تحقیقات کرائی جائیں

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بچوں کو 2003 میں خود مختارکردیا تھا اور شرط عائد کی تھی کہ جب تک میں پاکستان میں سیاست کروں گا اس وقت تک میرے بچے یہاں کاروبار نہیں کریں گے کیوں کہ کسی کو یہ شک نہ ہو کہ میرے بچوں نے اپنے کاروبار کے لیے میری پوزیشن کا فائدہ اُٹھایا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ میں نے اپنے بچوں قرضِ حسنہ دیا تھا جسے کو بچوں نے اپنی کمائی سے تین، چار قسطوں میں ادا کی جو کہ بینکوں کے ذریعے مجئھ تک پہنچی اس لیے اس کی منی ٹریل بھی موجود ہے اور ٹیکس ریٹرن میں بھی شامل ہیں جب کہ 2008 تک میری تنخواہ کے مطابق 7 لاکھ انکم ہونا تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں خیرات کھانے والوں میں سے نہیں بلکہ دینےوالوں میں سے ہوں چنانچہ بچوں سے واپس لیا گیا قرض حسنہ ان 100 بچوں کا ہے جن کومیں نے گود لیا ہوا ہے دوسری جانب یہ ہجویری فاؤنڈیشن یتیم خانےکےعلاوہ بھی رفاحی کام کرتی ہے اس لیے میرے بچوں کیلئے سوائے آبائی گھر کے کوئی اور چیزنہیں ہے سب چیئریٹی کیا ہوا ہے اور یہ بات میں کبھی نہیں بتاتا لیکن مجھے مجبورکردیا گیا کہ میں قوم کے سامنے چیزوں کو کلیئرکروں۔

اسحاق ڈار نے حدیبیہ پیپرز ملز کے حوالے سے کہا کہ 13 معزز جج صاحبان حدیبیہ پیپرز ملز کے معاملے کو نمٹا چکے ہیں جسے جے آئی ٹی ری اوپن نہیں کرسکتی بلکہ حدیبیہ پیپرزکیس کےایک جج اس وقت بھی ہائیکورٹ میں ہیں اور عدالتی احکامات ہیں حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمے کو ری اوپن نہیں کیا جاسکتا اس لیے اگر سیاسی تماشے لگانے ہیں توفیصلہ کرلیں ملک کوکہاں لےکرجانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ میں ساری ٹریل پیش کروں گا کیوں کہ میرے پاس ایک سوئی سے لے کر مرسڈیزتک کا ساراریکارڈ ہے جسے عدالت میں پیش کردوں گا، میں پروفیشنل ہوں اور مجھے ٹیکس بچانے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہتا ہوں کہ یا تو جے آئی ٹی والے فارغ ہیں یا انہیں جلدی تھی یا کوئی بددیانتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں