The news is by your side.

Advertisement

اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنس: نیب کو جوابات کے لیے آخری مہلت

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے ضمنی ریفرنس کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کو جوابات جمع کروانے کے لیے آخری مہلت دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے ضمنی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔

سماعت میں کیس کے شریک ملزمان سابق صدر نیشنل بینک سعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضوی عدالت میں پیش ہوئے۔

استغاثہ کے گواہ محمد نعیم اللہ نے بیان قلمبند کروایا جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر نیب اقبال حسن کا بیان بھی قلمبند کر کے ان پر جرح مکمل کرلی گئی۔

مزید گواہوں میں سہیل عزیز، محمد نعیم اللہ، ذوار اور اقبال حسین شامل ہیں۔ 2 گواہوں کا تعلق نجی بینک جبکہ 2 گواہوں کا تعلق نیب سے ہے۔

سماعت کے دوران اسحٰق ڈار کی گلبرگ کی رہائش گاہ کی ضبطگی کے خلاف درخواست پر نیب نے جواب جمع نہیں کروایا جس پر عدالت نے نیب کو جواب جمع کروانے کے لیے آخری مہلت دے دی۔

جج نے استفسار کیا کہ اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم ڈار کی درخواست پر جواب جمع کیوں نہیں کروایا جارہا؟ نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ جواب تیار نہیں ہوا، مزید مہلت دی جائے۔

عدالت نے کہا کہ آخری مہلت دے رہے ہیں، آئندہ سماعت پر جواب جمع کروائیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہ نجی بینک کے آپریشن مینیجر محمد آفتاب کو طلب کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل اسحٰق ڈار کے اکاؤنٹس سے 36 کروڑ روپے پنجاب حکومت کو منتقل کردیے گئے تھے۔ اسحٰق ڈار کے مختلف کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس چند ماہ پہلے منجمد کیے گئے تھے۔

اس سے قبل بھی عدالت کے حکم پر اسحٰق ڈار کی جائیداد قرقکی جاچکی ہے۔

اسحٰق ڈار کیس کے تفتیشی افسر نادر عباس کے مطابق اسحٰق ڈار کی موضع ملوٹ اسلام آباد میں واقع 6 ایکڑ اراضی فروخت کی جاچکی ہے، اراضی کیس کی تفتیش شروع ہونے سے پہلے فروخت کی گئی۔

اسحٰق ڈار کا گلبرگ 3 لاہور میں گھر بھی صوبائی حکومت کی تحویل میں دیا جاچکا ہے جبکہ اسحٰق ڈار کے اکاؤنٹس میں موجود رقم بھی صوبائی حکومت کی تحویل میں دے دی گئی تھی۔

تفتیشی افسر کے مطابق اسحٰق ڈار کی گاڑیاں تحویل میں لینے کے لیے ان رہائش گاہ پر کارروائی کی گئی تاہم اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ پر گاڑیاں موجود نہیں تھیں۔ گاڑیوں کی تلاش کی کوشش جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں