The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کی جمع شدہ دستاویزات میں ناقابل یقین ثبوت شامل

اسلام آباد : جے آئی ٹی کی رپورٹ کے جواب میں سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کی جانب سے جمع کرائی جانے والی دستاویزات میں ناقابل یقین ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کیے جانے والے دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل جواب میں حیرت انگیز اور ناقابل یقین ثبوت دستاویزات شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق سن 2003 سے 2005 تک اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات کے حکمراں شیخ نہیان کو معاونت فراہم کی، جس کے عوض انہیں 82 لاکھ برطانوی پاونڈ یعنی تقریبا 1 ارب پاکستانی روپے کی خطیر رقم فیس کے طور پر ادا کی گئی۔

اس حوالے سے چند ایسے بنیادی سوالات اٹھتے ہیں، جن کا اسحاق ڈار نے جمع کرائی گئی دستاویز میں کوئی جواب نہیں دیا، فیس کا یہ سرٹیفیکیٹ جے آئی ٹی کے سامنے کیوں نہیں پیش کیا گیا؟ کیا اس کامقصد کوئی جھوٹ چھپانا تھا ؟ 82 لاکھ پاونڈ کی خطیر رقم کی بینک اسٹیٹمنٹ موجود نہیں، کیا یہ رقم بوری میں اسحاق ڈار کو دی گئی؟

جواب میں معاونت کے لیے کیے گئے کنٹریکٹ لیٹر کی کاپی بھی منسلک نہیں، عالمی سطح پر ادائیگی مقامی کرنسی یا ڈالر میں کی جاتی ہے، جبکہ حیرت انگیز طور پر معاونت کی فیس برطانوی پاونڈ میں ادا کی گئی۔

ایوان بالا کے رکن اور ماہانہ سینٹ سے تنخواہ لیتے ہوئے کیا غیر ملکی ادارے سے پیسے لینا درست ہے ؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سے کلین چٹ لینے کے لیے وزیر خزانہ کو ان سوالات کا جواب دینا ہوگا۔

یاد رہے گذشتہ روز وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات پر مبنی جواب رجسٹرار آفس میں جمع کروایا تھا، جواب اعتراضات پر مبنی ہے جس میں جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار کے جواب میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جے آئی ٹی کی فائڈنگز عدالت کی جانب سے دیئے گئے مینڈیٹ سے متجاوز ہیں، آئینی پٹیشن اور عدالتی حکم میں ان کی دولت یا آمدن کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا۔ صرف یہی نکتہ جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کرنے کیلئے کافی ہے۔

اسحاق ڈار نے اپنے جواب میں کہا تھا ہے کہ ان کے اور ان کی اہلیہ سے متعلق ٹیکس کی تفتیش نیب کر چکا ہے ، خیرات کو ٹیکس چوری قرار دینا افسوس ناک ہے جبکہ آمدنی اور دولت کے حوالے سے سوال نہیں کیا گیا، اس طرح انہیں جے آئی ٹی کے تحفظات دور کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں