The news is by your side.

Advertisement

معروف مصنف اشتیاق احمد کوگزرے تین برس بیت گئے

کراچی: انسپکٹر جمشید سیریز سمیت آٹھ سو سے زائد ناولوں کے مصنف اشتیاق احمد کی آج تیسری برسی منائی جارہی ہے، انہوں 800 سے زائد جاسوسی ناول تحریر کیے ہیں۔

اشتیاق احمد کی پہچان بالخصوص بچوں کے لیے تحریر کردہ جاسوسی ادب کے حوالے سے تھی ، وہ انسپکٹر جمشید سیریز، کامران مرزا سیریز اور شوکی برادرز سیریز کے خالق تھے ، اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے شہر ہ آفاق مصنف ابن صفی کی عمران سیریز کا واحد ناول ’عمران کی واپسی‘ بھی لکھا جسے بے پناہ سراہا گیا۔

مشہور و معروف مصنف اور بچوں کی تحریروں کے حوالے سے بالخصوص شہرت حاصل کرنے والے اشتیاق احمد تین سال قبل آج ہی کے دن کراچی ایئرپورٹ پر حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کرگئے تھے ۔ وہ کراچی میں منعقد ہونے والے گیارہویں بین الاقوامی کتب میلے میں شرکت کے بعد اپنے دوست فاروق احمد کے ہمراہ لاہور جارہے تھے کہ اچانک طبیعت خراب ہوئی اور وہ خالق حقیقی سے ملے۔

کراچی میں ہونے والے گیارہویں بین الاقوامی کتب میلے میں ان کو شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی تھی اشتیاق احمد آٹھ سو سے زائد ناولوں کے مصنف تھے ان کی اہم ناول انسپکٹر جمشیدسیریز،انسپکٹر کامران سیریز ان کی وجہ شہرت وجہ بنے ۔

پہلی کہانی ہفت روزہ قندیل میں بڑا قد سنہ 1960ء میں شائع ہوئی اور اس کے بعد بارہ سال تک کہانیاں لکھنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ سنہ 1972ء میں پہلا ناول’پیکٹ کا راز‘ منظر عام پر آیااور ’عمران کی واپسی‘ ان کا آخری ناول ثابت ہوا۔

اشتیاق احمد کے دیرینہ دوست اور پبلشر فاروق احمد کے مطابق و ہ مزید پندرہ ناول وہ تحریر کرچکے ہیں، جو بعد میں شائع کئے جائیں گے۔ اشتیاق احمد کی تحریروں میں جو اسلوب پایا جاتا ہے،وہ ماہرین لسانیات اور ادیبوں کے مطابق عصر حاضر میں بھی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دے رہا ہے۔

اشتیاق احمد سنہ 1944ء ہندوستان کے شہر پانی پت میں پیداہوئے۔ تقسیم پاک و ہند کے بعد ہجرت کر کے پاکستان کے شہر جھنگ میں قیام کیا۔ایف- ایس- سی تک تعلیم حاصل کی۔ ان کی آپ بیتی جو کہ ’میری کہانی‘ کے عنوان سے شائع ہوئی اس میں وہ کہتے ہیں کہ روشنی کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں سڑک کنارے لگی لائٹوں سے علم سے استفادہ کرتا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں