site
stats
عالمی خبریں

داعش کی خواتین کے برقع پہننے پر پابندی عائد

بغداد: شدت پسند تنظیم داعش نے عراق کے شمالی علاقوں میں خواتین کے برقع پہننے پر پابندی عائد کردی ہے۔ پابندی برقع میں ملبوس خواتین کے داعش جنگجوؤں پر حملہ کے بعد لگائی گئی ہے۔

اس سے قبل کئی واقعات سامنے آچکے ہیں جن میں خواتین کو پردہ نہ کرنے پر داعش جنگجوؤں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں کوڑے مارے۔ تاہم اب داعش نے شمالی عراق کے بعض حصوں میں خواتین کے برقع پہننے پر پابندی عائد کردی ہے۔

داعش نے اپنے زیر قبضہ علاقہ موصل میں قائم سیکیورٹی سینٹرز میں برقع میں ملبوس خواتین کے داخلہ پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

یہ پابندی ایک برقع پوش خاتون کے حملہ کے بعد لگائی گئی ہے جس میں خاتون نے چیک پوسٹ کے قریب کھڑے جنگجوؤں پر پستول سے فائرنگ کردی۔ حملہ میں داعش کے 2 جنگجو مارے گئے۔ ایک اور حملہ موصل میں داعش کے ایک جنگجو پر ہوا تاہم وہ بچ نکلا۔

ذرائع کے مطابق یہ حملے داعش کے لیے نہایت غیر متوقع اور حیرت انگیز ہیں۔ داعش نے ایسے ہی دیگر حملوں کی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو برقع پوش خواتین سے محتاط رہنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

داعش نے 19 یزیدی خواتین کو زندہ جلا دیا *

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک عراق اور شام کے مختلف حصوں پر داعش کے قبضے کے بعد خواتین کا بری طرح استحصال جاری ہے۔ داعش ہزاروں خواتین کو اغوا کر کے انہیں اپنی نسل میں اضافے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

ان خواتین کی حیثیت جنسی غلاموں کی ہے جو ان جنگجوؤں کے ہاتھوں کئی کئی بار اجتماعی زیادتی اور بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بن چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق داعش نے اب تک 7 ہزار خواتین کو اغوا کر کے انہیں غلام بنایا ہے جن میں سے زیادہ تر عراق کے یزیدی قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top