The news is by your side.

Advertisement

"انسان بہت جلد زمین چھوڑ کر مریخ میں منتقل ہوجائیں گے”

یسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک طویل عرصے سے انسانوں کو مریخ پر پہنچانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں، اب انہوں نے بتایا ہے کہ انسان کب تک زمین کے پڑوسی سرخ سیارے پر قدم رکھ سکتے ہیں۔

ویسے تو وہ پہلے2024 تک انسانوں کو مریخ تک پہنچانا چاہتے تھے مگر اب انہوں نے اس کو مزید بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا اس دہائی کے آخر تک ہوسکے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2016میں اسپیس ایکس کے بانی نے مریخ میں ایک شہر بسانے کے منصوبے کے بارے میں بتایا تھا اور اس توقع ظاہر کی تھی کہ انسان بردار مشن2024 تک سرخ سیارے پر پہنچ جائے گا۔

اس کے بعد سے کمپنی نے مریخ راکٹ کی تیاری میں کافی پیشرفت کی ہے مگر وہ اتنی نہیں جو 2024 کے ہدف کو حاصل کرسکے۔

ایک ٹوئٹ میں ایلون مسک نے بتایا کہ ان کے خیال میں2029 وہ قریب ترین سال ہے جب ممکنہ طور پر انسان مریخ پر پہلا قدم رکھ سکیں گے یعنی اس سال جب انسانوں کو چاند پر پہلی بار قدم رکھے60 برس مکمل ہوجائیں گے۔

اس سے قبل دسمبر2020 میں ایلون مسک نے2026 تک مریخ میں انسانوں کو بھیجنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

اسپیس ایکس کی جانب سے ناسا کے خلاء بازوں کو چاند اور پھر مریخ پر لے جانے کے لیے اسٹار شپ کو ڈیزائن کیا گیا ہے جس نے ابھی کچھ آزمائشی پروازیں مکمل کی ہیں مگر ابھی تک خلاء میں نہیں بھیجا گیا۔

— فوٹو بشکریہ ناسا

ایلون مسک کی جانب سے یہ بھی شکایت کی جاتی رہی ہے کہ فیڈرل لانچ ریگولیشنز نے مریخ تک پہنچنے کے عمل کو سست رفتار کردیا ہے۔

ویسے یہ جان لیں کہ مریخ پر جانے کے لیے کافی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ زمین کے ساتھ ساتھ ہمارا پڑوسی سیارہ سورج کے گرد چکر لگاتا ہے، جس کے دوران وہ کبھی ایک دوسرے کے قریب ترین آجاتے ہیں تو کبھی دور۔

اسی کو مدنظر رکھ کر مخصوص ایام میں مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے پہلےایلون مسک نے2024، پھر 2026 اور اس کے بعد اب2029 کی تاریخ دی ہے۔

2018میں ایلون مسک نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اگر آپ مریخ پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ سوچ کر جائیں کہ وہاں مرنے کا امکان زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

ایلون مسک نے کہا کہ جب آپ خلا میں سفر کریں گے تو موت کا امکان بھی بڑھتا چلا جائے گا یہاں تک کہ اگر مریخ تک محفوظ سفر کرکے پہنچنے پر بھی وہاں لوگوں کو رہائشی بیس کی تعمیر کے لیے نان اسٹاپ کام کرنا ہوگا اور مریخ کے سخت موسمی حالات بھی جلد موت کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

تاہم ایلون مسک کا کہنا تھا کہ یہاں ایسے متعدد لوگ ہیں جو چوٹیاں سر کرتے ہیں، لوگ ہر وقت ماﺅنٹ ایورسٹ پر مرتے ہیں مگر انہیں چیلنج پسند ہوتے ہیں۔

اپنے بارے میں اسپیس ایکس کے بانی کا ماننا تھا کہ ایسے 70 فیصد امکانات ہیں کہ وہ خود بھی زمین چھوڑ کر مریخ منتقل ہوجائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں