The news is by your side.

Advertisement

اسلام سلامتی کا دین ہے اس کا دہشت گردی سےکوئی تعلق نہیں،علماء

اسلام آباد : وطن عزیز پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور بم دھماکوں میں بھارت سمیت دیگر دشمن قوتیں ملوث ہیں، اپنے اتحاد سے ملک دشمن قوتوں کو ناکام بنائیں گے۔

یہ بات علماء کنونشن کے مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی جس کے مطابق اسلام آباد میں جماعۃ الدعوۃ کے زیر اہتمام ’’علماء کنونشن کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں ایک سو سے زائد علماء و خطباء نے شرکت کی اور شرکاء سے اظہارِ خیال کیا۔

مولانا سیف اللہ خالد ، حاجی جاوید الحسن اور شفیق الرحمان و دیگر کی جانب سے پیش کیے گئے اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تخریب کاری کے خاتمہ کے لیے ملک سے بیرونی قوتوں کی مداخلت ختم کی جائے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے‘ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے اسلام، مسلمانوں اورمساجد و مدارس کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا بند کیا جائے۔

اعلامیہ کے مطابق علماء کنونشن میں موجود علماء آپریشن رد الفساد کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر میں بلا تفریقِ مسلک و مذہب اور سیاسی وابستگی کے بغیرکے فساد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا اور افغانستان اپنی سرزمین میں دہشت گردوں کو ٹریننگ دیکر پاکستان داخل کر رہے ہیں اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور قتل و غارت گری پر قابو پانے کے لیے دشمنان پاکستان کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی قوتیں مسلمانوں کو باہم لڑانے کے لیے فتنہ تکفیر اور فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کو پروان چڑھا رہی ہیں جس کے لیے علماء اکرام کو آگے آنا ہوگا کیوں کہ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں اور وہ کفار کی سازشوں کو سمجھتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں اور فتنہ تکفیر کا علمی سطح پر رد اور ملک میں اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کیا جائے۔

اعلامیہ میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ بھارت سمیت دیگر ملکوں کی طرف سے دہشت گردی کی سازشیں بے نقاب کرنے کے لیے ملک گیر مہم جاری رکھیں گے اور اسلام آباد کی طرح دیگر شہروں میں بھی علماء کنونشن، سیمینارز اور جلسوں کے انعقاد کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر عالمی اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے اس لیے انڈیا سے دوستی کا رویہ تبدیل کر کے اس کے دہشت گردانہ کردار کو پوری دنیا پر بے نقاب کیا جائے۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر بھارت سے آلو پیاز کی تجارت درست نہیں بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعہ کوئی خفیہ حل مسلط کرنے کی کوششیں کشمیری و پاکستانی قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

مشترکہ اعلامیہ میں حافظ محمد سعید نے سال 2017ء کو کشمیر کے نام کرنے کا اعلان کیا اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سال کو سرکاری طور پر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے طور پر مناتے ہوئے ان کی کھل کر مدد و حمایت کی جائے۔

مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت کے قانون پر عملدرآمد کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے لیے معزز عدلیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر توہینِ رسالت کے صفحات کو بند کرنے کا حکم قابلِ تحسین ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں علماء اکرام نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی اے ایسے صفحات جن میں گستاخانہ مواد موجود ہے بند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ بھی چلایا جائے۔

مشترکہ اعلامیہ میں تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم سے اسلامی اسباق اور شخصیات کے تذکروں کے اخراج کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا مدارس کے نصاب میں تبدیلی کے بجائے دینی تعلیم کے اسباق دنیاوی اداروں میں شامل کیے جائیں۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ حکومت اغیار کی خوشنودی کے لیے ایسے اقدامات سے باز رہے اور ملک میں ہندووانہ تہذیب کو فروغ اور تعلیم کے میدان میں بچوں کا اخلاق برباد کرنے کی کوششیں بند کی جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں