The news is by your side.

Advertisement

پیرس، معروف اسلامی اسکالر پروفیسر طارق رمضان زیادتی کے الزام میں گرفتار

پیرس : آ کسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ معاصرِ مذاہب اور فلسفے کے پروفیسر طارق رمضان کو دو خواتین کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، طارق رمضان اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کے نواسے بھی ہیں.

بین الااقوامی میڈیا کے مطابق آکسفورڈ سمیت متعدد درس گاہوں میں مذہب اور فلسفے کی تعلیم دینے والے پروفیسر اور فلاسفر طارق رمضان کو دو خواتین کے ساتھ زیادتی کے الزامات میں حراست میں لے کر مزید تفتیش کے لیے جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پروفیسر طارق رمضان جو اخوان المسلمین کے بانی حسن البنا کے نواسے بھی ہیں کے خلاف 2016 میں ہینڈا یاری نامی خاتون نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اس کے علاوہ 2009 میں بھی ایک قسم کی ایک شکایت سامنے آئی تھی۔

علاوہ ازیں چار سوئس خواتین نے بھی جنیوا میں دوران تعلیم پروفیسر طارق رمضان پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کیا تھا تاہم پروفیسر طارق رمضان نے ان تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے ایسی کوششوں کو انہیں بدنام کرنے کی سازش اور اُن کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش قراردیا۔

فلسفے اور مذہب کے پروفیسر طارق رمضان نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ الزام عائد کرنے والی خاتون ہینڈا ایاری مسلمان مخالف شدت پسند گروہ کی رکن ہیں اور آج کل سیکولر فیمنیسٹ گروپ کی سربراہی بھی کر رہی ہیں جن کا ایجنڈا ہی اسلام مخالف ہے اسی لیے وہ منفی پروپیگنڈہ کرر ہی ہیں۔

خیال رہے حسن البنا کے نواسے پروفیسر طارق رمضان کے والد سعید رمضان بھی ممتاز اسلامی اسکالر تھے جنہیں مصری صدر جمال عبدالناصر کے دور میں جلاوطن کردیا گیا تھا جس کے بعد یہ گھرانہ پہلے سعودی عرب اور پھر سوئٹزرلینڈ منتقل ہوا جہاں پروفیسر طارق رمضان کی پیدائش ہوئی۔

پروفیسر طارق رمضان نے سوئٹزرلینڈ میں ہی گریجویشن کی اور پھر فلسفہ اور فرانسیسی ادب کی تعلیم حاسل کی جس کے بعد عربی اور مطالعہ علوم اسلامی کی تعلیم جامعۃ الازہر سے حاصل کی اور درس و تدریس کو اپنا اوڑنا بچھونا بنایا، وہ عراق پر اتحادی فوجوں کے حملے کے سخت ناقد بھی تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں