The news is by your side.

Advertisement

علماء کا ایک بار پھر پولیو کے خاتمے میں تعاون کا عزم

اسلام آباد: قومی اسلامی مشاورتی گروپ (این آئی اے جی) نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک میں جاری پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی تمام مہمات میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے اور اس موذی مرض کا پاک وطن سے خاتمہ کر کے دم لیں گے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں منعقد کیے جانے والے گروپ کے اجلاس میں صوبائی و قومی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

یہ تمام اقدامات پولیو کے خاتمے کے لیے بنائے جانے والے پروگرام نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان (این ای اے پی) 18۔2017 کے تحت اٹھائے جارہے ہیں۔

گو کہ رواں برس اب تک ملک میں صرف 4 پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی اور یوں لگ رہا ہے کہ پاکستان پولیو فری ملک بننے کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن اس سلسلے میں مرتب کی جانے والی رپورٹس کچھ اور ہی حقائق بتاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: یونیسف کو پاکستان سے پولیو کے خاتمے کا یقین

پروگرام کے ماحولیاتی نگرانی نیٹ ورک کی تحقیق کے مطابق مختلف شہروں کے سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس تاحال موجود ہے جن میں صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی، بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع قلعہ عبداللہ شامل ہے۔

دوسری جانب جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کا پانی بھی اس سے پاک نہیں۔

اجلاس میں شریک وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے پولیو سینیٹر عائشہ رضا نے علما سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور مقامی آبادیوں میں پولیو کے قطروں کے حوالے سے رائج مختلف اعتقاد اور توہمات کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔

مزید پڑھیں: پشاور کا پانی پولیو وائرس سے پاک قرار

سینیٹر عائشہ رضا نے کہا، ’ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ بچے کو پولیو کے قطرے کب تک پلائے جائیں گے۔ پولیو کے یہ قطرے جسمانی صحت کے لیے بالکل بے ضرر ہیں البتہ یہ پولیو وائرس کے خلاف ایک ڈھال کی صورت کام کرتے ہیں۔ تو یہ ڈھال جتنی زیادہ مضبوط ہوگی پولیو وائرس کے حملے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا جائے گا‘۔

انہوں نے اس پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا کہ باقاعدگی سے ہر سال پولیو کے قطرے نہ پینے والے بچے بھی بعض اوقات پولیو وائرس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

اجلاس میں قومی اسلامی مشاورتی گروپ کے سربراہ مولانا حنیف جالندھری نے بتایا کہ بچوں کو پولیو وائرس اور عمر بھر کی معذوری سے بچانا اسلام اور شریعت کی رو سے ہمارا فرض ہے کیونکہ ہمارے بچوں کی دیکھ بھال اور مناسب پرورش ہماری ذمہ داری ہے جب تک کہ وہ خود باشعور نہیں ہوجاتے۔

انہوں نے بتایا، ’جب بھی پولیو ٹیم میرے گھر کے دروازے پر آتی ہے، میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے گھر میں موجود بچوں میں سے کوئی بھی یہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے‘۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک پاکستان پولیو سے پاک ملک نہیں بن جاتا اور ہمارے بچے اس موذی وائرس سے محفوظ نہیں ہوجاتے، اس مہم کے ساتھ ہمارا تعاون ہر حال میں جاری رہے گا۔

مزید پڑھیں: قبائلی علاقے میں پولیو کیسز کی شرح صفر

یاد رہے کہ قومی اسلامی مشاورتی گروپ سنہ 2013 میں قائم کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد پاکستانی کے چوٹی کے علماؤں کے ذریعے ملک بھر میں یہ پیغام عام کرنا تھا کہ انسداد پولیو وائرس کے قطرے نہ تو انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، اور نہ ہی کوئی مذہبی عقیدہ اسے پینے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

سنہ 2013 سے ان علماؤں نے خصوصاً قبائلی علاقوں میں لوگوں کی ذہن سازی میں خصوصی کردار ادا کیا ہے جس کے بعد اب آہستہ آہستہ انسداد پولیو وائرس کے قطرے پینے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور پولیو کے قطروں کے بارے میں رائج توہمات کا بھی خاتمہ ہو رہا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں