اسرائیل کابینہ نے نئی یہودی بستیوں کی تعمیرکی منظوری دے دی -
The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل کابینہ نے نئی یہودی بستیوں کی تعمیرکی منظوری دے دی

یروشلم  : اسرائیل کابینہ نے مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیرکی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی منظوری دے دی، یہ منظوری اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ نے دی، سیکوریٹی کابینہ نے کہا کہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی جائیں۔

اس فیصلے کے بعد اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقے نابلوس کے قریب ایمک شلو میں ساڑھے پانچ ہزار گھرت تعمیرکرے گا۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیم آزادی کے انتظامی رکن حنان اشروی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل خطے میں امن واستحکام کیلئے بین الاقوامی تقاضوں کے احترام کی بجائے غیرقانونی آباد کاروں کی سہولت کیلئے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔


مزید پڑھیں : اسرائیلی پارلیمنٹ نےیہودی بستیوں کی تعمیر کامتنازع قانون منظور کرلیا


یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیلی پارلمینٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر یہودیوں بستیوں کے تعمیر کامتنازعہ بل منظور کی تھی، اسرائیلی پارلیمان میں اس قانون کے حق میں60جبکہ مخالفت میں 52 ووٹ ڈالے گئے تھے۔

اقوام متحدہ نے بھی نئی بستیوں کی تعمیر کی مخالفت اور مذمت کی تھی۔

گذشتہ سال دسمبر میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کی یہودی بستیوں کی تعمیرکیخلاف قرارداد منظورکی گئی تھی ، جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ اسرائیل اس قراردار کا احترام نہیں کرے گا۔


مزید پڑھیں : اسرائیل کا مغربی کنارے پریہودی بستی تعمیرکرنے کا اعلان


یاد رہے کہ اسرائیل نے اس سے قبل بھی اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر 2500 مکانات پر مشتمل مزید یہودی بستیاں تعمیر کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبھی اشارہ دیا تھا کہ وہ ان یہودی بستیوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں۔انہوں نےاپنی انتخابی مہم میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔

واضح رہے کہ 1967 میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے یہاں تعمیر ہونے والے 140 بستیوں میں پانچ لاکھ کے قریب غیر قانونی یہودی آباد ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں