تازہ ترین

کوئٹہ: تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے گئے 9 مسافر قتل

کوئٹہ:نوشکی کے قریب تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے...

بہاولنگر واقعے کی مشترکہ تحقیقات ہوں گی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بہاولنگر...

عیدالفطر پر وفاقی حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: عیدالفطر کے موقع پر وفاقی حکومت نے...

ایشیائی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کر دی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں آئندہ مالی سال...

سنگدل شخص نے بیوی اور 7 بچوں کو قتل کر دیا

پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں اجتماعی قتل کا...

اسرائیل کا غزہ امداد روکنا جنگی جرم، اقوام متحدہ کا اہم بیان

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی امداد روکنا جنگی جرم ہو سکتا ہے۔

یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے ساتھ جس انداز میں دشمنی جاری رکھی ہوئی ہے، اور جس حد تک وہ غزہ میں امداد کی رسائی کو مسلسل روک رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بھوک کو جنگی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرنے کے مترادف ہے، جو ایک جنگی جرم ہے۔

الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں امداد روک کر جنگی جرم کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ کیا ’بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟‘ اس کا حتمی تعین عدالت کی طرف سے کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کی تکلیف ناقابل برداشت ہے۔

ایک طرف جہاں عالمی امدادی ایجنسیاں غزہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے بحران کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتی ہیں، وہاں بے شرمی کی حد کرتے ہوئے نیتن یاہو کی حکومت کا کہنا ہے کہ رسد کی ترسیل میں ان کی جانب سے رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی، بلکہ امداد کی ترسیل کی مقدار اور رفتار میں اقوام متحدہ اور امدادی گروپ غلطی پر ہیں۔

امکان روشن، حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی مذاکرات سے متعلق اہم خبر

دوسری طرف گزشتہ ہفتے چیریٹی گروپ آکسفیم کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے فلسطینیوں تک پہنچنے والی امداد کو روکنے کے لیے بیوروکریسی کو استعمال کر رہا ہے، یہاں تک کہ اس سے قحط جیسی صورت حال پیدا ہوتی جا رہی ہے۔

Comments

- Advertisement -