The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل نے ’فیس بک پوسٹ‘ پر فلسطینی بیوٹیشن کو جیل بھیج دیا

یروشلم: اسرائیلی عدالت نے مغربی کنارے پر رہنے والی 22 سالہ فلسطینی بیوٹیشن کو فیس بک کمنٹ پر جیل بھیج دیا۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے پر بیت اللحم کی رہائشی مجد عطوان کوملٹری عدالت نے سوشل میڈیا پر اشتعال آمیز پوسٹ کرنے پر 45 دن کی قید اور 3 ہزار شیکال (آٹھ سو ڈالر) جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

مجد نے 11 اپریل کو مغربی یروشلم کی ہبرون اسٹریٹ پر ہونے والے بس دھماکے کی ستائش کی تھی جس میں 20افراد زخمی ہوئے تھے۔

مجد عطوان نے اپنے فیس بک پر لکھا تھا کہ ’’دھماکے میں 20 آبادکاروں کا زخمی ہونا اچھی خبر ہے‘‘۔

مجد نے مقدمے کے سماعت کے دوران الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ تمھارا ہماری زمین پر قبضہ ہی ہمارے لوگوں کی جانب سے بغاوت کے لیے کافی ہے اکسانے کی ضرورت نہیں۔ میں مقبوضہ آبادی کا حصہ ہوں ،مجھ سے توقع نہیں رکھی جائے کہ میں غصے کے بجائے پھول پیش کروں گی‘‘۔

مجدعط وان کو گزشتہ ماہ باوردی افراد نے رات دو بجے ان کے گھرسے گرفتار کیا تھا۔ ان کے والد یوسف عطوان کا کہنا تھا کہ ’’میری بیٹی کو گرفتار کرنے کے لئے اتنی جیپیں آئی تھیں کہ گمان گزرا کہ’ اسامہ بن لادن‘ اس علاقے میں رہائش پذیر ہے‘‘۔

مجد کی والد ہ نڈال کا کہنا ہے کہ ’’میری بیٹی ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو عوام کو اشتعال پر ابھارتے ہیں وہ آرٹسٹ ہے بچپن سے ناخن پسند تھے‘‘۔

واضح رہے کہ اسرائیلی ملٹری ان دنوں سوشل میڈیا کی سختی سے مانیٹرنگ کررہی ہے اور اکتوبر سے اب تک 150 سے زائد افراد کو سوشل میڈیا پوسٹ کے سبب گرفتار کیا جاچکا ہے جن میں سے بیشتر کو تین ماہ کے عرصے تک بغیر کسی الزام کے تحویل میں میں رکھا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں