The news is by your side.

اسرائیلی اخبار کا نریندر مودی کی امریکی صدر سے ملاقات پر تبصرہ

یروشلم: اسرائیلی اخبار نے بھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے چہرے سے نقاب اتار کھینچ دیا ہے، اور مودی بائیڈن ملاقات کے حوالے سے ایسا تبصرہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت جن ممالک کو خود سے قریب سمجھتا تھا، ان سے بھی اب مودی کی پالیسیاں نظر انداز نہیں ہو رہی ہیں۔

اسرائیل میں 1918 سے نکلنے والے اخبار ہاریٹز نے اوپینئن کے صفحے پر ایک آرٹیکل چھاپا ہے، جس کا عنوان ہے: ‘ہندو بلوے، مسلم مخالف بائیکاٹ: مودی کے ہندوستان میں 1930 کی دہائی کے جرمنی کی بازگشت زور پکڑ رہی ہے۔’

دیباشیش رائے چودھری نے اس آرٹیکل میں لکھا کہ نریندر مودی کا بھارت ہٹلر کے جرمنی جیسا لگنے لگا ہے، ایک طرف مودی مسلم شدت پسندی کے خدشات بتاتا پھر رہا ہے، دوسری طرف مودی کے بھارت میں اقلیتیں ہندو شدت پسندی سے دوچار ہیں۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق مودی افغانستان میں طالبان حکومت کو بھی خطے کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے، لیکن مودی کی اپنی جماعت مسلم کش واقعات میں ملوث ہے، مودی کے بھارت میں اقلیتوں کو شدت پسندی کا سامنا ہے اور مودی کے بھارت میں مسلمانوں پر تشدد عام ہوگیا ہے۔

مودی کے بھارت کے اس تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں پر تشدد اتنا عام ہو چکا ہے کہ خبر کی زینت بھی نہیں بنتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں