The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل کی سپریم کورٹ میں پہلی بار مسلمان جج کی تقرری

اسرائیل میں ایک مسلمان کو ملکی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ میں بطور جج مقرر کر دیا گیا ہے۔

روزنامہ ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق 20 فیصد سے زیادہ اسرائیلی شہری عرب ہیں اور 2003 سے سپریم کورٹ میں ایک عرب جج ہے جب کہ تمام سابقہ تقرر عیسائی تھے۔

ملک کے معروف وکیل اور جج خالد کبوب کو اسرائیلی عدالت عظمیٰ کا جج مقرر کر دیا ہے جب کہ مزید دو خواتین کو بھی سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا ہے۔

63 سالہ خالد کبوب جامعہ تل ابیب سے اسلام اور تاریخ میں اعلیٰ ڈگری کے حامل ہیں۔ عدالت عظمیٰ میں تقرری سے قبل وہ تل ابیب میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

خیال رہے کہ 2020 میں برطانیہ میں برطانوی نژاد پاکستانی خاتون رافعہ ارشد حجاب پہننے والی پہلی جج تعینات کی گئی تھیں۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق 40 سالہ رافعہ ارشد کو ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج تعینات کیا گیا تھا۔ رافعہ ارشد 17 سال سے قانون کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع میں خوف تھا کہ میرا آبائی تعلق پاکستان سے ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت ساری حجاب پہننے والی خواتین نے مجھے مبارک باد کے خط لکھے، میری تعیناتی سے باحجاب خواتین کا حوصلہ بڑھے گا۔

رافعہ ارشد کا کہنا تھا کہ ابھی بھی بعض دفعہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نظام کے اندر امتیازی سلوک کے حوالے سے خامیاں موجود ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں