حماس کے حملے کے بعد جنگی جنون میں مبتلا اسرائیل کی معیشت پر برے اثرات رپورٹ ہو رہے ہیں، اسرائیلی معاشی ماہرین کے مطابق صرف 22 روز میں اسرائیل کا جنگی نقصان 17 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
فرانسیسی اخبار لی مونڈے کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے اسرائیل کے تمام شعبے بشمول تعمیرات، ٹیکنالوجی، زراعت اور ٹیکسٹائل مزدوروں کی قلت سے شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
اخبار کے مطابق تل ابیب کے واٹر فرنٹ پر لگژری مندارین اورینٹل ہوٹل کی تعمیراتی سائٹ رکی ہوئی ہے، کرینیں اور دیگر مشینیں یونہی پڑی ہوئی ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل میں زیر تعمیر تمام پراجیکٹس میں سے تقریباً 80 فی صد منجمد ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں رواں سال کے آخر تک خسارہ جی ڈی پی کے 3 فی صد تک پہنچ جائے گا، خیال رہے کہ اسرائیل کی 500 ارب ڈالر کی معیشت مشرق وسطیٰ کی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی جنگ اسرائیلی معیشت کو قابل ذکر نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جب 1 لاکھ 60 ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہوں تو معیشت کو کیسے نقصان نہیں پہنچے گا۔
ہائی ٹیک کمپنیوں پر فخر کرنے والی اسرائیلی معیشت میں سے ہنر مند ایگزیکٹوز کی افرادی قوت میں 10 تا 15 فی صد کمی واقع ہو چکی ہے، جب ساڑھے تین لاکھ ریزور فوجیوں کو متحرک کیا گیا تو اس کا مطلب تھا کہ 10 فی صد ورکرز کو دفاعی محاذ پر منتقل ہونا پڑا۔