The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل کی اپوزیشن جماعتوں کا نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے پر اتفاق

تل ابیب : اسرائیل بارہ سال کے طویل عرصے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو کے بغیر مخلوط حکومت بننے کے قریب پہنچ گیا ہے، نیتن یاہو نے ٹیلی وژن سے خطاب میں اس منصوبے کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

اسرائیل کے سخت گیر قوم پرست رہنما نفتالی بینٹ نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے مخلوط اتحاد میں شامل ہوں گے جو ملک میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے وزیر اعظم نیتن یاہو کے اقتدار کا خاتمہ کرسکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نفتالی بینٹ نے اتوار کو یمینا پارٹی کے اجلاس کے بعد کہا کہ میں اپنے دوست یش اتید پارٹی کے رہنما یائر لاپید کے ساتھ قومی حکومت بنانے کے لیے سب کچھ کروں گا۔ یاد رہے کہ یائر لاپید کو نئی کابینہ کی تشکیل کا کام سونپا گیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ ایک ممکنہ مخلوط حکومت جو بارہ سال بعد مجھے اقتدار سے ہٹتا ہوئے دیکھے گی ملک کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہوگی۔

سخت گیر رہنما نفتالی نے کہا تھا کہ وہ قومی حکومت تشکیل دینے میں اپوزیشن سربراہ کے ساتھ شامل ہوں گے۔ نیتن یاہو نے ٹیلی وژن سے خطاب میں اس منصوبے کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ غزہ میں کشیدگی سے پہلے یائر لاپید کے نفتالی بینیٹ کے ساتھ معاہدے کے فائنل ہونے کی رپورٹس سامنے آ رہی تھیں۔ نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ اس صورتحال میں وہ مرکز اور بائیں بازو کے ساتھ اتحاد بنانے کی کوششوں کو ترک کر رہے ہیں۔

سیز فائر ہونے کے بعد اسرائیل میں یہودیوں اور اور عرب اسرائیلیوں کے درمیان کشیدگی بھی کم ہوگئی ہے اور یائر لاپید اور نفتالی بینیٹ کے درمیان اتحاد کے مواقع بڑھ گئے۔ اسرائیل کے صدر رووین ریولین نے پانچ مئی کو حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپید کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔

اس سے قبل وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو مخلوط حکومت بنانے کے لیے 28 روز کی مہلت دی گئی تھی تاہم وہ حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اگر یائر لاپید بھی حکومت سازی میں ناکام رہے تو پھر پانچویں مرتبہ انتخابات کرائے جائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں