The news is by your side.

Advertisement

مسلمان فٹ بالر کی مقبولیت نے اسرائیلی وزیر دفاع کے تعصب کو شکست دے دی

لیورپول کی نمائندگی کرنے والے محمد صلاح کو گذشتہ دنوں سال کے بہترین انگلش کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا

لندن: یورپی نوجوانوں کے لیے رول ماڈل تصور کیے جانے والے ممتاز مصری فٹ بال محمد صلاح کی مقبولیت کے سامنے اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع ایواڈ گورلائبرمین نے ایک ٹویٹ کیا ہے، جس میں انھوں نے اسرائیلی فوج کے سربراہ سے کہا کہ وہ محمد صلاح کو اپنی زیر کمان فوج میں شامل کر لیں۔

یاد رہے کہ محمد صلاح ممتاز انگلش کلب لیورپول کی نمائندگی کرتے ہیں، اس وقت وہ اپنے کیریر کے عروج پر ہیں، ان کی شان دار پرفارمینس کے طفیل انگلش کلب یو ای ایف اے لیگ کے فائنل میں پہنچ چکا ہے، فقط چند روز قبل ہی سال کے بہترین انگلش کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

مصری فٹ بالر نے جہاں اپنی کارکردگی سے لاکھوں افراد کو گرویدہ بنائیں، وہیں غیرمتوقع طور پر اسرائیلی وزیر دفاع بھی انھیں سراہنے پر مجبور ہوگئے۔

اس مقبولیت کا اثر گذشتہ ماہ مصر میں‌ ہونے والے صدارتی انتخابات میں‌ بھی نظر آیا، جب انتخابی امیدوار نہ ہونے کے باوجود دس لاکھ مصریوں نے بیلٹ پیپر پر محمد صلاح کا نام لکھ دیا

اپنے سرکاری ٹوئٹر ہینڈلر سے اسرائیلی وزیر دفاع نے صہیونی فوج کے سربراہ کو پیغام دیا ہے کہ وہ صالح کو فوری اسرائیلی فوج میں بھرتی کر لیں۔

خیال رہے کہ پذیرائی کا یہ طریقہ محمد صالح کے لیے نیا نہیں. لیورپول کے مداح انھیں مصری بادشاہ کہہ کر پکارتے ہیں، انگلش مداح میچ کے دوران یہ نعرہ بھی لگاتے ہیں کہ اگر محمد صلاح اسی طرح گولز اسکور کرتے رہے، تو وہ بھی مسلمان ہوجائیں گے، یاد فٹبال پریمئر لیگ کے دوران ہونے والے مقابلوں میں مصری فٹبالر نے اب تک 43 گول کرچکے ہیں۔

محمد صلاح کو مصر میں‌ بھی ہیرو کا درجہ حاصل ہے، انھوں نے ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے سنسنی خیز میچ میں‌ پینالٹی پر گول اسکور کرکے مصر کو 28 سال کے طویل انتظار کے بعد ورلڈ‌ کپ میں‌ پہنچایا.

اس مقبولیت کا اثر گذشتہ ماہ مصر میں‌ ہونے والے صدارتی انتخابات میں‌ بھی نظر آیا، جب انتخابی امیدوار نہ ہونے کے باوجود دس لاکھ مصریوں نے بیلٹ پیپر پر محمد صلاح کا نام لکھ دیا تھا۔ یوں وہ منتخب ہونے والے مصری صدر عبدالسیسی کے بعد سب سے زیادہ ووٹ لینے والے امیدوار ٹھہرے.


مصری فٹبالر یورپی نوجوانوں‌ کا رول ماڈل بن گیا، ملکی صدر کو بھی چیلینج کردیا


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں