site
stats
عالمی خبریں

استنبول میں نائٹ کلب پرحملہ،39افرادہلاک

استنبول : ترکی کےشہر استنبول میں سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر نائٹ کلب میں مسلح شخص نے گھس کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم سے کم39افراد ہلاک اور 40زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کےمطابق ترکی کےشہر استنبول میں سنتا کلاز کا لباس پہنےمسلح شخص نے نائٹ کلب میں اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں پولیس افسر سمیت39 افراد ہلاک جبکہ 40 زخمی ہوگئے۔

post-1

استنبول کے گورنروسیب ساہن نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں39افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے۔

post-2

رینا نائٹ کلب میں جائے وقوعہ پر موجود گورنر وسیب ساہن نے صحافیوں کو بتایا کہ دور تک نشانہ بنانے والے اسلحے سے لیس ایک دہشت گرد نےمعصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جو صرف سالِ نو کی خوشی اور تفریح کے لیے آئے تھے۔

post-3

ترک حکام کا کہنا تھا کہ حملے سے قبل نائٹ کلب میں 700 کے قریب افراد موجود تھے جو سالِ نو کا جشن منارہے تھے۔

post-5

استبول میں سالِ نو کے موقع پر دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ تھا اور شہر میں تقریباََ 17 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی پرتعینات تھے۔

post-4

عالمی رہنماؤں کی مذمت

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے استنبول کے نائٹ کلب پر حملےمیں انسانی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے حملے کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستانی عوام ترکی کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

وزیر اعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں، دنیا کو مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث پاکستان کو جانی اورمالی نقصان کا سامنا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کو حملے کی تفتیش میں ترک حکام کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹال برگ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ استنبول سے 2017 کا المناک آغاز ہوچکا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی چیف فریڈریکا موغرینی، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے بھی نائٹ کلب حملے کی مذمت کی۔

مزید پڑھیں:ترکی: روسی سفیر دوران خطاب فائرنگ سے ہلاک

یادرہے کہ 19دسمبر کوترکی میں روسی سفیر اندرے کرلوف کو ایک ترک پولیس اہلکار مولود مرت التنتاش نے انقرہ میں تقریب کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں:استنبول میں دھماکے،44افراد جاں بحق

واضح رہے کہ گزستہ سال 10دسمبر کواستبول میں ایک فٹبال سٹیڈیم کے باہر دو دھماکوں میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہوگئے تھے،اس حملے کی زمہ داری کرد عسکریت پسند گروہ نے قبول کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top