spot_img

تازہ ترین

روسی صدر پیوٹن کی وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شہباز شریف کو...

امریکا وزیراعظم شہباز شریف کیساتھ مشترکہ مفادات آگے بڑھانے کا خواہاں

واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھو ملر...

وزیراعلیٰ کے پی آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور آج اڈیالہ جیل...

الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی...

شہباز شریف نے وزیراعظم کےعہدے کا حلف اٹھالیا

اسلام آباد : شہباز شریف نے وزیراعظم کےعہدے کا...

کل اور آج (اطالوی ادب سے انتخاب)

جنگ کا آغاز حال ہی میں ہوا تھا۔

مارینو لرنا نے رضا کارانہ طور پر افسران کے اسکول میں داخلہ لیا اور تیزی سے نصاب مکمل کر کے انفنٹری لیفٹیننٹ کے درجے پر فائز ہوا۔ اپنے کنبے کے ہمراہ آٹھ دن کی تعطیلات گزارنے کے بعد وہ اپنے یونٹ کیسیل بریگیڈ کی بارہویں رجمنٹ میں مکیراٹا چلا گیا۔ اسے امید تھی کہ محاذ پر جانے سے پہلے ایک یا دو ماہ بھرتی ہونے والے تربیتی کیمپ میں گزارے گا، لیکن توقع کے برعکس تین دن بعد جب وہ بیرک کے احاطے میں تھا، دفعتاً کسی نے اس کا نام پکارا اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے، اس نے خود کو ان دیگر گیارہ لیفٹیننٹوں میں پایا جو مختلف افسران کے اسکولوں سے مکیراٹا پہنچے تھے۔

”تو اب کہاں؟ کیوں؟“

”اوپر، ہال میں کرنل صاحب انتظار کر رہے ہیں۔“

کارابینیری کا کرنل بیرکوں کے کمانڈنٹ کے طور پر فرائض سر انجام دیتا تھا۔ اس نے جوں ہی پہلا لفظ منہ سے نکالا۔ مارینو لرنا سمجھ گیا کہ انہیں بھیجنے کا حکم مل چکا ہے۔ وہ کاغذات سے ڈھکی ایک بڑی میز کے سامنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ ان کی آنکھیں ابھی باہر چمکتے جون کے سورج کی روشنی میں سے آ کر ہال کی دھندلی اداس روشنی کی عادی نہیں ہوئی تھیں۔ وہ بس کرنل کی وردی کے کالر پر لگے چاندی کے بَیجوں، اس کے گھوڑے جیسے لمبے گلابی چہرے کے خد و خال اور گھڑ سوار سپاہی کی طرح دو حصوں میں بٹی ہوئی بڑی مونچھوں کو پہچان رہے تھے۔

آغاز میں مارینو اپنے احساس اور خیالات کے ہجوم میں تیز اور کرخت آواز میں کہے گئے الفاظ کا مفہوم نہیں سمجھ سکا۔ پھر اپنی توجہ مرکوز کی۔ ہاں، یہی بات تھی، اگلی شام کو نکلنے کا حکم دیا جا رہا تھا۔ سب جانتے تھے کہ بارہویں رجمنٹ کی بٹالین پوڈگورا کے قریب ایک انتہائی خطرناک اور مشکل پوزیشن پر قابض ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ بے شمار اور بے نتیجہ حملوں میں بہت سے جوان افسر مارے گئے تھے۔ اس لیے فوری طور پر نفری بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جوں ہی نوجوان افسروں کو کرنل سے خلاصی ملی۔ ان کا اندرونی تناؤ حیرت انگیز طور پر بے حسی کی شکل میں جھلکنے لگا، جیسے وہ ہڑبڑا کر رہ گئے ہوں، لیکن پھر اچانک ان پر گہری شوخی کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم جلد ہی وہ ہوش میں آئے اور ایک دوسرے کو یقین دلانے لگے کہ ان کی خوشی خالص اور سچی ہے۔ ایک کے علاوہ ہر کسی نے اکیلے یا ٹولی کی شکل میں ٹیلی گراف کے دفتر جانے اور محتاط لفظوں میں اپنے رشتہ داروں کو متوقع روانگی کے بارے میں مطلع کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ ان اَسّی زیرِ تربیت افسران میں سے ایک تھا، جنہوں نے مارینو لرنا کے ساتھ روم کے آفیسرز اسکول سے گریجویشن کیا تھا اور انہیں بارہویں رجمنٹ میں تفویض کیا گیا تھا، وہ ”ساری“ کی عرفیت سے مشہور تھا۔ ساری، نوجوان مارینو کو بطور رفیقِ کار پسند نہیں کرتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ قسمت نے جان بوجھ کر اسے رومن افسر اسکول سے منتخب کیا اور اس رجمنٹ میں بھیج دیا ہے۔ ساری کے پاس روانگی کی اطلاع دینے والا کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے تین دن میکراٹا میں ایک ساتھ گزارے تھے۔ اگرچہ اس دوران مارینو نے اس کے بارے میں اپنی رائے مکمل طور پر تبدیل نہیں کی تھی، اس کے باوجود وہ بہتر برتاؤ کرنے لگا تھا، غالباً اس لیے کہ ساری نے تنہائی میں اس تحقیر آمیز رویے کو ترک کر دیا تھا، جس کے باعث اس کی کمپنی اسے ناپسند کرتی تھی۔

مارینو لرنا کو احساس ہو گیا تھا کہ ساری کی نفرت اس کے مزاج اور فطرت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ عام میلان رکھنے والے لوگوں کے ساتھ چلنا نہیں چاہتا تھا، بلکہ کسی بھی قیمت پر اور ہر صورت میں ہجوم سے الگ رہنا چاہتا تھا۔ وہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ اس کی سوچ عام افراد کی طرح نہیں ہے، بلکہ ان سے مختلف ہے اور کامریڈ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں، اسے اس کی کوئی پروا نہیں۔ مختصر یہ کہ ساری کی ذات اس قدر ناپسندیدہ نہیں تھی، جس طرح اس نے خود کو پیش کیا تھا۔ اسے اس پر فخر بھی تھا۔ ساری متمول دنیا میں اکیلا تھا، اس لیے وہ جو چاہے کر سکتا تھا۔

ساری روم سے اپنے ساتھ ایک خوش مزاج لڑکی بھی میکراٹا لے آیا تھا، جسے اس نے تین ماہ تک ساتھ رکھا۔ وہ کمپنی کے ساتھیوں میں اچھی طرح جانی جاتی تھی۔ ساری کو توقع تھی کہ وہ کم از کم ایک ماہ عقب میں رہے گا اور اس دوران جسمانی اور ہر طرح کی لذتوں سے لطف اندوز ہو گا۔ ساری کو یہ بھی یقین تھا کہ اس کا مقدر محاذ پر مرنا ہے۔ مزید برآں اسے یہ خیال ناقابلِ برداشت محسوس ہوتا تھا کہ جنگ کے خاتمے پر اسے ہیروز اور ان کے مداحوں سے بھرے ملک میں رہنا پڑے گا۔

مارینو لرنا نے ٹیلی گراف کے دفتر جاتے ہوئے دیکھا کہ ساری کہیں نہیں جا رہا تو پوچھا۔ ”تم نہیں جا رہے؟“ ساری نے کندھے اچکائے۔

”میرا مطلب۔۔ میں یہ کہنا چاہتا تھا۔“ مارینو نے اپنے مضحکہ خیز سوال پر شرمندہ ہوتے ہوئے خود کو سنبھالا، ”دراصل، میں تم سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔“

”مجھ سے کیوں؟“

”مجھے نہیں معلوم۔۔ لیکن تم نے دیکھا ہوگا، تین دن پہلے جب میں روم چھوڑ رہا تھا تو میں نے اپنے والدین کو امید دلائی تھی۔“

”کیا تم ان کے اکلوتے بیٹے ہو؟“

”ہاں۔“

”اوہ، مجھے افسوس ہے۔“

”میں نے انہیں امید دلائی تھی کہ ایک ماہ سے پہلے مجھے محاذ پر نہیں بھیجا جائے گا اور وعدہ کیا تھا کہ جانے سے پہلے ان سے ضرور ملوں گا۔“

”آخری بار۔۔۔“ اس کی نوک زبان پر چلا آیا تھا، لیکن وہ رک گیا۔

ساری مسکرایا۔ ”کہو کہو، آخری بار!“

”اچھا، تم کیا ہو یار۔ خدا نہ کرے، آخری بار نہیں۔“

”اچھا ٹھیک ہے، پھر؟“

”والد نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ اگر چھٹی نہ دی گئی تو میں پیشگی اطلاع دوں گا، تاکہ وہ اور ماں یہاں آ کر مجھے الوداع کہہ سکیں۔ اب پتہ چلا ہے کہ ہم کل شام پانچ بجے روانہ ہو رہے ہیں۔“

”اگر وہ آج شام کی ٹرین پکڑ لیتے ہیں تو کل صبح سات بجے یہاں ہوں گے اور پورا دن تمہارے ساتھ گزار سکتے ہیں۔“ ساری نے کہا۔

”تو تم مجھے اس کا مشورہ دے رہے ہو؟“ مارینو نے پوچھا۔

”نہیں!“ ساری نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر کہا، ”مجھے بتاؤ، کیا تم اتنے خوش قسمت تھے کہ بنا آنسوؤں کے چلے آئے تھے؟“

”نہیں، ماں رو رہی تھی۔“

”پھر یہ تمہارے لیے کافی نہیں ہے؟ تم اسے دوبارہ روتا دیکھنا چاہتے ہو؟ انہیں بتاؤ کہ ہم آج رات جا رہے ہیں اور ابھی الوداع کہہ دو۔ یہ تمہارے اور ان کے لیے بہتر ہوگا۔“

پھر یہ دیکھ کر، کہ مارینو لرنا ہچکچاہٹ کا شکار ہے، وہ بولا، ”میں نینا کو بتاؤں گا کہ ہم جا رہے ہیں۔ اسے ہنسی آئے گی۔ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے۔ اگر اس نے رونے کا سوچا تو میں اسے ماروں گا۔“ یہ کہہ کر ساری چلا گیا۔

مارینو لرنا ٹیلی گراف کے دفتر پہنچا۔ وہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پایا تھا کہ ساری کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے یا نہیں۔ وہاں اسے ایسے کئی کامریڈ ملے جو الوداعی ٹیلی گرام بھیج رہے تھے۔ مارینو نے بھی ایسا ہی کیا، لیکن پھر اسے خیال آیا یہ بے چارے ماں باپ کے ساتھ دھوکہ ہے اور فوراً دوسرا ٹیلیگرام بھیج کر تجویز دی کہ اگر وہ آج شام دس بجے کی ٹرین سے روانہ ہو جائیں تو وقت پر پہنچیں گے اور اسے الوداع کہہ سکے گے۔

مارینو لرنا کی ماں ایک سخت اور مربیانہ رویے کی حامل خاتون تھیں جو اب بھی اکثر صوبے میں پائی جاتی ہیں۔ لمبی اور پتلی دبلی، ایک موٹے کارسیٹ میں ابھرے ہوئے سینے کے ساتھ، ان کی تیز اور بے چین آنکھیں چوہے کی آنکھوں سے مشابہت رکھتی تھیں۔ جب وہ یونیورسٹی میں داخل ہوا تو انہوں نے اکلوتے بیٹے کی بے پناہ محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ابروزو میں اپنا آرام دہ پرانا گھر چھوڑ دیا تھا، تاکہ اس سے جدا نہ ہوں اور دو سال قبل دارالحکومت چلی آئیں۔ جہاں وہ اب انتہائی بے آرامی محسوس کر رہی تھیں۔

٭٭٭
اگلی صبح وہ اس حالت میں مکیراٹا پہنچیں کہ مارینو کو انہیں بلانے پر افسوس ہوا۔ وہ ’نہیں نہیں۔۔‘ کی تکرار کرتی تیزی سے گاڑی سے اتریں اور اس کے سینے سے لگ کر سسکیاں لینے لگی۔

”ایسا مت کرو، رینوچیو۔ ایسا مت کرو۔“ باپ نے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر اس کے شانے پر تھپکی دی اور بولا، ”تم مرد ہو۔ مرد نہیں روتے۔“

اس نے روم میں روانگی سے پہلے ایک اجنبی سے بات چیت کی تھی، جس کا بیٹا جنگ کے آغاز سے محاذ پر تھا اور گھر میں اس کے دو چھوٹے بچے تھے۔ بالکل ایک عام سی گفتگو اور کچھ نہیں۔۔ صرف دو والدین کے درمیان بات چیت اور کوئی نہیں رویا تھا۔

تاہم اس نے سختی سے اپنی سوجی ہوئی آنکھوں میں آنے والی نمی کو روکنے کی کوشش کی، جس نے اس باوقار اور کسرتی جسم کے آدمی کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیا تھا، جس کے باعث وہ کچھ مضحکہ خیز اور سنجیدہ نظر آ رہا تھا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ ماں کا بے قابو ہو کر رونا تھا۔ باپ انتہائی پرجوش تھا۔ وہ تمام وقت اس اجنبی آدمی کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کرتا رہا۔ جیسے اپنے جذبات کو چھپا رہا ہو۔ یہ سب ایک غیر متوقع نتیجہ پر ختم ہوا۔ ایسا لگتا تھا، جیسے اس نے سکون کی بناوٹی نقاب کے نیچے اپنے چہرے کو چھپا رکھا ہے اور اس درد کو پوری طرح محسوس کر رہا ہے جو ماں کے آنسوؤں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور دل کی گہرائیوں میں بیٹے کے لیے تڑپ رہا ہے۔ جیسا کہ ساری نے پیش گوئی کی تھی، الوداعیہ سب کے لیے فضول اور غیر ضروری اذیت میں بدل گیا تھا۔

اپنے والدین کو ہوٹل لے جانے کے بعد مارینو لرنا کو فوراً بیرکوں کی طرف لوٹنا پڑا۔ جہاں سے وہ دوپہر کے قریب واپس آیا۔ اس کے پاس ہوٹل کے کمرے میں ناشتہ کرنے کا بمشکل وقت تھا۔ کیوں کہ ماں کی آنکھیں آنسوؤں سے سوجی ہوئی تھیں اور وہ ریسٹورنٹ میں نہیں جا سکتی تھی۔ وہ بمشکل اپنے پیروں پر کھڑی تھی، پھر اسے آخری ہدایات کے لیے دوبارہ بیرک بھاگنا پڑا۔ چنانچہ ماں باپ نے اسے جانے سے چند منٹ قبل دوبارہ دیکھا۔

جب وہ تنہا رہ گئے تو باپ نے ماں کو محتاط لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ کافی دیر تک آہیں بھرتے اور کانپتے ہاتھوں سے اپنے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے اٹک اٹک کر توجہ سے باتیں کرتا رہا، ”رینوچیو۔۔ کیا اس طرح رونا ٹھیک ہے؟ خدا نہ کرے۔ جو کچھ ہو۔۔۔ ہو سکتا ہے، رجمنٹ کو دوسرے محاذ پر منتقل کر دیا جائے۔ وہ پہلے دن سے اگلے محاذ پر ہے۔ علاوہ ازیں اگر دشمن مارے گئے تو۔۔ یہ سب ختم ہو جائے گا۔۔ بلکہ۔۔ وہ ذرا سا زخمی ہو جائے۔ مثال کے طور پر ہاتھ پر۔ خدا ہمارے بیٹے کی مدد کرے گا۔۔ اسے رو کر کیوں تکلیف پہنچائی جائے؟ ہاں ہاں۔۔۔ رینوچیو، یہ درد بھری سسکیاں اس کے لیے تکلیف دہ ہیں۔۔ وہ پریشان ہوگا۔“

لیکن ماں نے کہا، ”میں قصوروار نہیں۔ یہ سب آنکھوں کا کیا دھرا ہے۔ ہاں آنکھیں۔۔ تم ان کا کیا کر سکتے ہو؟ اس کی ہر بات، ہر عمل عجیب اثر ڈال رہا ہے، جیسے یہ سب کچھ ماضی میں ہوا ہو۔۔ کیا تم سمجھ رہے ہو؟ ہر لفظ۔۔ میرے کانوں میں ایسے آتا ہے، جیسے ماضی سے جڑا ہو۔۔ جیسے وہ اب نہیں بول رہا، بلکہ ماضی میں بول چکا ہو۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے ایسا لگتا ہے وہ پہلے ہی جا چکا ہے۔۔ میں کیا کر سکتی ہوں؟ اوہ خدا، اوہ خدا۔“

”کیا یہ گناہ نہیں ہے؟“

”ہوش میں آؤ! کیا کہہ رہے ہو؟“

”میں کہتا ہوں کہ یہ گناہ ہے۔ میں ہنسوں گا۔۔ تم دیکھنا، میں ہنسوں گا، جب وہ چلا جائے گا۔“

ایسا لگتا تھا کہ وہ ضرور جھگڑا کریں گے۔ بیٹا ابھی گیا نہیں تھا کہ وہ انگاروں پر لَوٹنے لگے تھے۔ ٹھیک ہے، کیا اعلیٰ افسران نہیں سمجھتے کہ وہ آخری لمحات بے چاری ماں اور غمزدہ باپ کے ہونے چاہئیں؟

جب مارینو کے ساتھی ایک ایک کر کے ہوٹل پہنچنے لگے تو انتظار کی اذیت ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ نوجوان افسروں نے عجلت میں اپنا سامان باندھا اور فوراً اسٹیشن کی طرف بھاگے۔ پورٹروں نے ڈبوں، بوریوں، اوور کوٹوں اور کرپانوں کو نیچے اتارا اور عملہ بھی تیزی سے اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔

مارینو بیرک سے نکلنے والا تقریباً آخری آدمی تھا۔ وہ اپنے فیلڈ جوتے لینے کے لیے دوڑا جو اس نے ایک دن پہلے مرمت کے لیے دیے تھے۔ اسے دیر ہو چکی تھی۔ اسے بہت جلدی کرنی پڑی، لیکن جب وہ اور اس کے والدین اسٹیشن پر پہنچے تو ٹرین کے دروازے بند ہو رہے تھے۔ اس کے پاس بمشکل چھلانگ لگانے کا وقت تھا۔ ساتھیوں نے اسے پکڑ لیا اور اسی لمحے ٹرین چل پڑی، چیخ و پکار کرتے اور روتے ہوئے لوگوں نے ہاتھوں میں پکڑے رومال اور ٹوپیاں لہرائیں۔

سینورا لرنا آخری لمحے تک اپنی ٹوپی لہراتا رہا۔ حالاں کہ اسے یقین نہیں تھا کہ بیٹا اسے دیکھ رہا ہے اور جب اس حقیقت سے جھلا کر کہ اسے مارینو کو الوداع کہنے کے لیے کافی وقت نہیں ملا، وہ اپنی بیوی کی طرف متوجہ ہوا تو اسے اپنے قریب نہ پایا۔ وہ بے ہوش ہو گئی تھی اور اسے انتظار گاہ میں لے جایا گیا تھا۔

٭٭٭
کچھ ہی دیر میں اسٹیشن پرسکون ہو گیا۔ پلیٹ فارم پر اب کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ موسمِ گرما کی دوپہر کے چمکدار سورج کے نیچے صرف پٹریاں چمک رہی تھیں اور کچھ فاصلے پر آپ ٹڈوں کی مسلسل سرسراہٹ سن سکتے تھے۔ الوداع کہنے والوں کے ساتھ عملہ شہر واپس چلا گیا۔ جب مارینو کی ماں کو ہوش آیا اور محسوس کیا کہ وہ ہوٹل واپس جا سکتی ہیں تو اسٹیشن پر کوئی کوچوان نہیں ملا۔ اسٹیشن گارڈ کو اس پر ترس آیا اور رضا کارانہ طور پر قریبی گیراج میں اومنی بس لینے کے لیے چلا گیا، جو غالباً پہلے ہی شہر سے واپس آ چکی تھی۔

آخری لمحات میں جب تھکی ہوئی رینوچیو کو اومنی بس میں لے جایا جا رہا تھا اور بس روانہ ہونے ہی والی تھی، گلابوں سے سجی تنکوں والی ٹوپی پہنے ایک نوجوان سنہرے بالوں والی لڑکی نے معلوم نہیں کہاں سے دروازے پر قدم رکھا۔ وہ بہت خوبصورت تھی اور اس نے عجیب کھلا لباس پہن رکھا تھا، اس کی پلکیں اور ہونٹ رنگے ہوئے تھے، مگر وہ سسک سسک کر رو رہی تھی۔ اس نے ایک ہاتھ میں نیلے رنگ کا ایک چھوٹا کڑھائی والا رومال پکڑا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے شرمسار ہو کر اپنا دایاں گال چھپا رکھا تھا، جس پر تھپڑ کا ایک خوفناک سرخ نشان نظر آ رہا تھا۔

یہ وہی نینی تھی، جسے لیفٹیننٹ ’ساری‘ روم سے لایا تھا۔ مارینو لرنا کے والد کو فوراً احساس ہو گیا کہ یہ سنہرے بالوں والی لڑکی کس قسم کا پرندہ ہے۔ ماں نے بہرحال اندازہ نہ کیا اور اپنے سامنے ایک عورت کو اپنی طرح آنسو بہاتے دیکھ کر پوچھنے سے گریز نہ کر سکی، ”کیا اس نے اپنے شوہر کو رخصت کیا ہے؟“

اس نے ننھے سے رومال سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے انکار میں سر ہلایا۔

”بھائی؟“ مارینو کی ماں نے پوچھا۔ یہاں آدمی نے غیر محسوس انداز میں اسے اپنی کہنی سے ٹہوکا دیا۔ لڑکی نے یقیناً دیکھ لیا ہوگا یا محسوس کر لیا ہوگا کہ بوڑھے کے اشارے سے اب زیادہ دیر اس کے بارے میں غلط فہمی قائم نہیں رہے گی، لہٰذا اس نے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن اس کے ساتھ ہی اسے کچھ اور احساس بھی ہوا جو بہت زیادہ پریشان کن تھا۔ اسے لگا کہ اس نے اپنی ماں کو رونے نہیں دیا تھا۔ اب یہ بوڑھی عورت اپنے آنسوؤں کو اس کے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن کیا اس کے آنسو سچے نہیں ہیں؟

کیا یہ تکلیف سے نہیں نکلے، کیا ماں کے آنسو قابلِ فہم اور فطری درد سے زیادہ بھرپور ہیں؟ روم میں نینی صرف ساری کے ساتھ ہی نہیں تھی۔ اس کا تعلق اسکول کے افسروں، اس کے بہت سے ساتھیوں اور کون جانتا ہے شاید اس نوجوان سے بھی تھا، جس کے لیے بوڑھی ماں رو رہی تھی۔ آج بھی اس نے ان میں سے دس کے ساتھ لنچ کیا۔ یہ ایک حقیقی بدمستیوں کی محفل تھی، جس میں اس نے ہر چیز کی اجازت دے دی، انہیں وہ کرنے دیا جو وہ چاہتے تھے۔

کیوں کہ وہ پاگل ہو رہے تھے۔ وہ پیارے لڑکے جنگ میں جانے سے پہلے سب کچھ فراموش کر دینا چاہتے تھے۔ آخر میں وہ اس کی چھاتیوں کو وہیں ٹریٹوریا میں سب کے سامنے عریاں کرنا چاہتے تھے۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ وہ کتنی مخروطی اور تقریباً نوعمر لڑکی جیسی ہیں۔ وہ جنونی ان پر شیمپین چھڑکنے پر آمادہ تھے۔ اس نے انہیں سب کچھ کرنے کی اجازت دی، تاکہ وہ اپنے ساتھ اس کے جسم کی زندہ یادوں کو جو محبت کے لیے بنایا گیا ہے، جنگ میں لے جائیں۔

آہ۔۔ وہ خوبصورت بیس سالہ نوجوان۔ جنہیں کل موت نے ایک ایک کر کے اپنے ساتھ لے جانا تھا۔ وہ ان کے ساتھ زور زور سے قہقہے لگاتی رہی اور پھر۔۔ اوہ خدا۔۔۔ جب وہ انہیں آخری بوسے دے رہی تھی تو رونے لگی۔ تب اسے ’ساری‘ کی طرف سے وہ زور دار تھپڑ لگا جو اس کے گال کو اب بھی ڈنک کی طرح چبھتا تھا، لیکن نہیں، وہ اس سے بالکل ناراض نہیں تھی۔

لہٰذا اسے بھی حق حاصل ہے کہ وہ بوڑھی ماں کو ناراض کیے بغیر اپنے آنسو بہائے۔ یہ سچ تھا کہ ماں نے اسے رونے سے نہیں روکا، لیکن نینی نے اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کی تاکہ وہ پریشان نہ ہو، لیکن یہ مشق بیکار تھی۔ اس نے آنسوؤں کو جتنی سختی سے روکا، وہ اتنی ہی شدت سے بہہ نکلے۔ بالآخر اس نے تھک کر آنسو پیتے اور کراہتے ہوئے کہا، ”خدا کے لیے۔۔ خدا کے لیے۔۔۔ رینوچیو! میں اپنے لیے نہیں رو رہی۔ میرے یہ آنسو۔۔۔ مجھے بھی رونے کا حق ہے۔ آپ اپنے بیٹے کا نوحہ کریں۔ اور میں۔۔۔ میں دوسرے کا۔ جس نے مجھے رونے پر مارا۔ آپ ایک کے لیے روتی ہیں۔۔ اور میں سب کے لیے۔۔۔ مجھے سب کے لیے افسوس ہے۔ آپ کے بیٹے۔۔۔ اور سب۔ سب۔۔۔“

اس نے اپنے ہاتھوں سے چہرے کو ڈھانپ لیا۔ وہ ماں کی سخت نگاہوں کو برداشت کرنے سے قاصر تھی جو غیرت اور مذمت سے بھری ہوئی تھیں اور جو تمام مائیں اپنی اولاد کی عورتوں کے لیے محسوس کرتی ہیں۔ ماں بیٹے کے جانے سے پریشان تھی۔ اسے سکون اور خاموشی کی ضرورت تھی۔ لڑکی نے اسے نہ صرف ناراض کیا تھا، بلکہ ایذا بھی پہنچائی تھی۔ خوش قسمتی سے اسٹیشن سے شہر زیادہ دور نہیں تھا۔ جیسے ہی اومنی بس رکی وہ اپنے ہم سفروں کی طرف دیکھے بغیر اتر گئی۔

اگلے دن رینوچیو لرنا اور اس کے شوہر روم واپس اپنے گھر جا رہے تھے۔ فیبریانو اسٹیشن پر درجہ اول کے ڈبے کی کھڑکی سے انہوں نے دیکھا کہ ایک سنہرے بالوں والی مسافر لڑکی کو ڈبے میں خالی نشست کی تلاش ہے۔ اس کے ساتھ ایک نوجوان تھا۔ وہ پھولوں کا گلدستہ پکڑے ہنس رہی تھی۔ رینوچیو لرنا اپنے شوہر کی طرف متوجہ ہوئی اور بلند آواز میں بولی، تاکہ سنہرے بالوں والی سن لے، ”اوہ! دیکھو یہ وہی ہے، جس نے سب کا نوحہ کیا تھا۔“

لڑکی خاموشی سے مڑی اور بنا غصے یا جھنجھلاہٹ کے اس کی طرف دیکھنے لگی۔

”بیچاری ماں۔۔ مہربان اور بے وقوف۔“ جیسے اس کی شکل پر لکھا تھا۔ ”کیا آپ نہیں سمجھتی کہ یہ زندگی کیا ہے؟ کل میں ایک کے لیے روئی تھی۔ آج مجھے کسی اور کے لیے ہنسنا ہے۔“

(اطالوی ادب سے لیوگی پیراندیلو کا افسانہ جس کے مترجم جاوید بسام ہیں)

Comments

- Advertisement -