site
stats
سندھ

اتحاد ٹاؤن کیس: رینجرز اہلکار ہدف نہیں تھے، دہشت گردوں کا انکشاف

کراچی : اتحاد ٹاؤن میں 3 رینجرز اہلکاروں کے قتل کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا، گرفتار ہونے والے ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود رینجرز اہلکار ہمارا ہدف نہیں تھے، یہ واردات اچانک کی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دہشت گردوں نے انکشاف کیا ہے کہ اتحاد ٹاوٴن میں ہونے والی واردات اتفاقیہ تھی، رینجرز اہلکار دہشت گردی کا ہدف نہیں تھے، ہمارا اصل ہدف ایف آئی اے کا ایک سینئر افسر تھا۔

تحقیقاتی حکام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی وہ واردات اچانک تھی جسے یہ کوڈ ورڈ میں “پھیری” کا کام کہتے ہیں، ایف آئی اے کا سینئر افسر جمعہ کو نماز کے لیے آتا تھا جو اس دن نہیں آیا۔

عاصم کیپری اوراسحاق بوبی کے پاس اسلحہ جبکہ ان کا تیسرا ساتھی رکشے والا تھا، عاصم کیپری اور اسحاق بوبی نے مسجد میں نماز جمعہ ادا کی، رکشے والے نے ایف آئی اے افسر کی ریکی کر رکھی تھی، جب یہ دونوں نماز پڑھ کر باہر نکلے تو رینجرز اہلکار موجود تھے۔

دونوں نے ان پر حملے کے لیے کوڈ ورڈ دب دیں” استعمال کیا، فائرنگ کے وقت رکشے والا ساتھی کچھ آگے کھڑا تھا، عاصم کیپری اوراسحاق بوبی نے سرکاری ایس ایم جی چھینی اور کچھ دور پھینک دی۔

دونوں نے اپنا اسلحہ رکشے میں رکھوایا اور خود موٹرسائیکل پر فرارہوگئے، تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ رکشے والے تیسرے ساتھی نے یہ اسلحہ بعد میں ان کی دکان پر پہنچایا۔

یاد رہے کہ کراچی کے علاقے اتحاد ٹاﺅن میں رینجرز کی جانب سے دہشت گردوں کی موجودگی پر چھاپہ مارا گیا تھا جس پر ملزمان نے رینجرز اہلکاروں پر فائرنگ کر کے تین اہلکاروں کو جاں بحق کردیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top