ضمنی الیکشن میں آثار اچھے نہیں، ایم کیوایم سے سیٹیں چھینی گئی، خواجہ اظہار الحسن -
The news is by your side.

Advertisement

ضمنی الیکشن میں آثار اچھے نہیں، ایم کیوایم سے سیٹیں چھینی گئی، خواجہ اظہار الحسن

کراچی : ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن میں آثار اچھے نظر نہیں آرہے، 25جولائی کو ایم کیوایم سے الیکشن چھینے گئےتھے۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن میں بات کرتے ہوئے کہی۔ خصوصی ٹرانمیشن میں پاکستان تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی اور رہنما پاکستان پیپلزپارٹی شہلا رضا بھی موجود تھیں۔

خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ ضمنی الیکشن کیلئے بھرپور انتخابی مہم چلائی ہے، اگر ہمیں ضمنی الیکشن میں فارم پینتالیس وقت پر مل گئے تو سو فیصد جیت ہماری ہوگی۔ این اے243میں250سے زیادہ میٹنگز کیں، عوام چاہتے تھے کہ وزیراعظم کراچی سے ہو، ایم کیوایم سے الیکشن چھینے گئے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن سے دو دن پہلے فاروق ستار کی پریس کانفرنس سمجھ نہیں آئی، انہوں نے کس کے مشورے پر پریس کانفرنس کی یہ سوال ان سے ہی کرنا چاہئے، فاروق ستار الیکشن کے بعد بھی پریس کانفرنس کرسکتے تھے، دیکھنا ہوگا ان کی پریس کانفرنس سے کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوا۔

جو حلقہ کھلوانا چاہیں کھلوالیں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، فردوس شمیم نقوی

پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ گزشتہ انتخابات کراچی کے شفاف ترین انتخاب تھے جو حلقہ کھلوانا چاہیں کھلوالیں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، کراچی میں الیکشن انتہائی پرامن ہوئے تھے، ہرجماعت کا ایک نمائندہ دفتر میں موجود تھا۔

اب تک ایم کیوایم ہماری اتحادی ہے، کراچی کے عوام اب پیپلزپارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے، شہر میں سیوریج کا نظام آج تک ٹھیک نہیں ہوسکا، کراچی میں ایک پارٹی نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی،35سال تک عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا لیکن آج پی ٹی آئی کراچی کی سب سےبڑی جماعت بن چکی ہے، ہم کراچی میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے کام کررہے ہیں۔

بڑے اچھے بھتہ خور ہیں، جنہیں دو وزارتیں دی ہوئی ہیں، شہلا رضا

پی پی رہنما شہلا رضا کا کہنا تھا کہ این اے دو سو تینتالیس میں پی ٹی آئی امیدوار نے کہا کہ ہماری لڑائی بھتہ خووروں سے ہے، بڑے اچھے بھتہ خور ہیں، جنہیں دو وزارتیں دی ہوئی ہیں اور تیسری کی تیاری ہے۔

پیپلز پارٹی کے دور میں بلدیاتی حکومت کو پیسے دیئے، کام کیوں نہیں کیا گیا؟ کراچی کے انفرا اسٹرکچر پر جتنا کام ہم نے کیا مصطفیٰ کمال نے بھی نہیں کیا۔

موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہے، بیرونی سرمایہ کارنکل گئے، کراچی والےآنکھیں کھولیں، کے پی کاقرضہ37ارب سے358ارب ہوگیا، کراچی میں ہماری سیٹیں بڑھی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں