جلال آباد قونصل خانے کی بندش، افغان حکام نے پاکستانی مؤقف تسلیم کرلیا -
The news is by your side.

Advertisement

جلال آباد قونصل خانے کی بندش، افغان حکام نے پاکستانی مؤقف تسلیم کرلیا

اسلام آباد : افغان حکام نے گورنر ننگرہار کی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کا مؤقف کو تسلیم کرلیا، پاکستانی عملے کو سیکیورٹی کی مکمل فراہمی کے بعد ہی سفارت خانہ کھولا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق افغان شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانہ بند کرنے کے معاملے پر پاکستانی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام نے افغان وزارت خارجہ حکام سے ملاقات کی ہے، پاکستان نے افغان حکام کو دو ٹوک مؤقف سےآگاہ کردیا۔

اس حوالے سے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری سے ملاقات میں پاکستانی حکام کا مؤقف تھا کہ ننگرہار کے گورنر نے پاکستانی قونصل خانے پردھاوا بولا جو قابل مذمت ہے۔

اس موقع پر افغان حکام کی جانب سے پاکستانی مؤقف کا برملا اعتراف کیا گیا، افغان حکام نے ننگرہار کے گورنر کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کےتحفظات درست ہیں، گورنرکو ایسااقدام نہیں کرنا چاہئے تھا۔

دوسری جانب پاکستانی وزارت خارجہ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی پاکستانی توقعات کے مطابق اور جواب مثبت ہونے پر ہی جلال آباد میں قونصل خانہ کھولا جائے گا، پاکستانی حکام کو افغان وزارت خارجہ حکام کے جواب کا انتظار ہے۔

مزید پڑھیں: گورنر کی مداخلت پر پاکستان نے جلال آباد میں قائم سفارت خانہ احتجاجاً بند کردیا

سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستانی حکام کی جانب سے قونصل خانہ کی سیکیورٹی سے متعلق متبادل تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

مزید پڑھیں: شہریوں کے تحفظ کی خاطر جلال آباد قونصل خانہ بند کیا، وزیر خارجہ

یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ روز افغانستان کے شہر جلال آباد میں قائم سفارت خانہ گورنر ننگر ہارحیات اللہ حیات کی کی بے جامداخلت کرنے پر احتجاجاً بند کردیا تھا، سفارتی عملے نے مکمل سکیورٹی کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں