The news is by your side.

Advertisement

آج جلیاں والا باغ کے سانحے کو ننانوے سال ہوگئے

برصغیر کی تحریکِ آزادی میں ایک اہم موڑثابت ہونے والے واقعے ’جلیاں والا باغ‘ کو 99 سال بیت گئے ہیں‘اس واقعے نے برصغیرمیں آزادی کی مہم کو مہمیزکیا تھا‘ سنہ 1997 میں بھارت کے دورے پرملکہ برطانیہ نے اس تاریخ کا افسوس ناک باب قراردیا تھا۔

معروف محقق عقیل عباس جعفری کے مطابق’’ اپریل 1919ءمیں جب رولٹ ایکٹ کے خلاف ملک گیر ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا تو پنجاب اس تحریک کا مرکز بن گیا۔ ان دنوں پنجاب کا گورنر سر مائیکل فرانسس او ڈائر تھا ‘جس نے پنجاب میں جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کرکے بریگیڈیئر جنرل ریگنالڈ ایڈورڈ ہیری ڈائر نامی ایک سخت گیر اور ظالم شخص کو بے پناہ اختیارات کے ساتھ ”نافرمان عوام“ کی سرکوبی کے لیے مامور کردیا‘‘۔

دس اپریل 1919ءکو امرتسر کے ڈپٹی کمشنر نے رولٹ ایکٹ کے خلاف تحریک چلانے میں دو سیاسی رہنماﺅں ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کو گرفتار کرلیا اور ان کی گرفتاری پر جب عوام نے جلوس نکالنا چاہا تو ان پر گولی چلا دی گئی۔

تیرہ اپریل 1919ءکو امرتسر کے عوام ڈاکٹر کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کی اسیری کے خلاف جلیاں والا باغ میں جمع ہوئے۔ یہ باغ انیسویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک درباری پنڈت جلانے بنوایا تھا اور اسی کے نام سے موسوم تھا۔ یہ باغ کوئی دو سو گز لمبا اور ایک سو گز چوڑا تھا۔ اس کے چاروں طرف دیوار تھی اور دیوار کے ساتھ ہی مکانات تھے، باغ سے باہر جانے کے چار پانچ راستے تھے مگر کوئی بھی چار پانچ فٹ سے زیادہ چوڑا نہ تھا۔

جب اس جلسے کا علم جنرل ڈائر کو ہوا تو وہ مشین گنوں اور رائفلوں سے مسلح سپاہیوں کے ہمراہ جلسہ گاہ پہنچ گیا اور اس نے بغیر کسی انتباہ کے عوام پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔ یہ فائرنگ اس وقت تک جاری رہی جب تک اسلحہ ختم نہیں ہوگیا۔

  انگریز مورخین کے مطابق اس سانحہ میں 379 افراد ہلاک اور 1203 زخمی ہوئے۔ سنگدلی کی انتہا یہ تھی کہ سانحہ کے فوراً بعد کرفیو نافذ کرکے زخمیوں کو مرہم پٹی کا انتظام بھی نہ کرنے دیا گیا۔اس سانحے نے پورے پنجاب میں آگ لگا دی جس پر قابو پانے کے لیے دو دن بعد پورے پنجاب میں مارشل لاءنافذ کردیا گیا۔

ملکہ برطانیہ جلیا والا باغ کی یاد گار کا دورہ کرتے ہوئے

سنہ 1997 میں برطانوی ملکہ الزبتھ دوئم نے بھارت کا دورہ کیا تو وہ جلیاں والا باغ بھی گئیں تھی‘ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ میں کچھ افسوس ناک واقعات بھی ہیں تاہم تاریخ کو بدلا نہیں جاسکتا۔ اس موقع پر بھارت میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم  اس وقت کے بھارتی وزیراعظم کمار گجرال  کہتے نظر آئے تھے  کہ’’اس  سانحے کے وقت ملکہ پیدا نہیں ہوئی تھیں لہذا انہیں معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔

گزشتہ سال ایک موقع پر اے آر وائی نیوز سے ٹیلی فونک گفت گو کرتے ہوئے بھارت میں موجود خالصتان تحریک کے رہنما امرجیت سنگھ نے کہا کہ سانحہ جلیاں والا باغ میں 400 سکھوں کو قتل اور 900 کو زخمی کیا گیا جب کہ 1984ء میں اس سانحے سے بھی بڑی کارروائی کی گئی، جمہوریت کے نام پر کئی جلیاں والا باغ جیسے مظاہرے ہوئے گویا ماضی کا جو طریقہ کار تھا وہ آج بھی بھارت میں رائج ہے۔

سکھ رہنما امرجیت سنگھ

امر جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ سکھوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھاکہ بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایسا خطہ آپ دیا جائے گاجہاں آپ نمو پاسکیں لیکن وہ وعدہ آج تک وفا نہ ہوا۔خالصتان پرامن تحریک تھی لیکن 84ء تا96 بارہ برس کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد سکھوں کو قتل کیا گیا، سکھوں کی ایک نسل ختم کردی گئی اور دوسری کو نشے کی راہ پر لگادیا گیا۔

انہوں نے یہ  بھی  کہا تھا  کہ ناگا پور اور منی لینڈ سمیت اس وقت 10 سے زائد ریاستوں میں آزادی کی تحاریک جاری ہیں، دلت اور قبائلیوں کے ساتھ بدترین سلوک ہوتا ہے،طلبہ کی خودکشی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا واقعہ سب کے سامنے ہے لیکن یہاں انسانی حقوق کی تنظیموں کی رسائی نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ  بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بہت سے واقعات ریکارڈ پر ہیں یعنی آزادی کے بعد بھی بھارت میں آزادی میسر نہیں ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں