The news is by your side.

Advertisement

تحریک عدم اعتماد: جام کمال نے استعفیٰ نہ دینے کی وجہ بتادی

کوئٹہ: جام کمال نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب چھوڑنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کی تجویز پر ہی نشست چھوڑوں گا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے جام کمال کا کہنا تھا کہ وزارت اعلیٰ کے منصب سےاستعفیٰ نہ دینےکی ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ کہ مجھے اکثریت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک تمام حکومتی ارکان اوراتحادی نہ کہیں استعفیٰ نہیں دوں گا، 40 میں سے اکثریت خلاف ہوجائے تو عہدے پر رہنے کا جواز نہیں رہتا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومتی اور اتحادیوں میں سےاب تک16 ارکان میرے خلاف اور تحریک عدم اعتماد کے حامی ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ اراکین تو شروع سے ہی میرے خلاف ہیں۔

مزید پڑھیں: ناراض اراکین کا جام کمال کو کل شام 5 بجے تک استعفیٰ دینے کا الٹی میٹم

جام کمال کا کہنا تھا کہ ’تحریک عدم اعتمادکیلئے 33 ممبران کی ضرورت ہے، حمایت کرنے والے چند ارکان ایسے ہیں جو میرے خلاف ہیں مگر وہ قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے، میں 10،12 اراکین کے مطالبے پر استعفیٰ کبھی نہیں دوں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کل ایسےحالات میں ہرکوئی چند ممبران کے ساتھ کھڑا ہوکر وزیراعلیٰ سے استعفیٰ مانگے گا،  پارٹی میں اکثریت کی حمایت ہے تو استعفےکا جواز نہیں بنتا‘۔

قبل ازیں بلوچستان اسمبلی کے ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو کل شام 5 بجے تک استعفیٰ دینے کا الٹی میٹم دے دیا۔ ان اراکین میں بلوچستان عوامی پارٹی  اور اتحادی اراکین بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: جام کمال کا استعفے سے متعلق وضاحتی بیان

بی این پی عوامی کے رکن اسد بلوچ نے دھمکی دی کہ جام کمال نے استعفیٰ نہ دیا تو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سمیت مختلف آپشنز کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہ بلوچستان میں معاملات خراب ہوتے جا رہے ہیں، جام صاحب نے خود کو عقل کُل سمجھا اور اکیلے صوبہ چلانےکی کوشش کی، وہ مستعفی ہوں کیوں کہ استعفیٰ صوبے کے مفاد میں ہے، لیکن جام کمال بہ ضد ہیں، ہمارا یہ اتحاد عوام کو ریلیف دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں