The news is by your side.

Advertisement

جماعت اسلامی کا بدترین لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہروں کا اعلان

کراچی: جماعت اسلامی نے کراچی میں بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ اور پانی کی عدم فراہمی پر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، بجلی کی صورتحال سے ہر شعبے سے وابستہ افراد پریشان ہیں، لوڈشیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت جمعہ 13 مئی کو شہر بھر میں 100 سے زائد  مقامات پر مظاہرے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 48 گھنٹوں میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی گئی تو کے الیکٹرک کے خلاف ہیڈ آفس پر دھرنا دیا جائے گا، پہلے ہی کراچی میں پانی کا بڑا بحران اور مسئلہ ہے اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، اسکول، گھر، بچے ، طالب علم، انڈسٹری سب متاثر ہو رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خرم دستگیر کہتے ہیں لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی ہے، خرم دستگیر آپ کراچی کے شہریوں کےمسائل کو سمجھیں، وفاقی وزیر بتائیں کہ کیا کراچی پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟، انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کو پرائیوٹائز کرنے سے اسکی کارکردگی خراب ہوئی، کے الیکٹرک 66 ہزار 441 ملین مینٹینس پر کہاں لگارہی ہے جواب دے، کے الیکٹرک کا پرافٹ 220 پرسنٹ بڑھ گیا مگر لوڈشیڈنگ کم نہ ہوئی، کے الیکٹرک کے میٹر تیز چلتے ہیں مگر اسے کہیں چیک نہیں کرا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک 2018 سے بن قاسم پاور پلانٹ کی تاریخ پر تاریخ دے رہا ہے، مگر چلا نہیں رہے اب کہہ رہے کہ ٹیسٹنگ چل رہی ہے، کے الیکٹرک اور نیپرا کا شیطانی اتحاد بنا ہوا ہے، کے الیکٹرک کو چاروں جماعتوں نے سپورٹ کیا ہے، شہری بدترین لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں، مافیا کو مزید اجازت نہیں دینگے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت شہر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویوز جاری ہیں لیکن اس کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے 12 سے  14گھنٹے کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے، ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جنہیں کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کہتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں