The news is by your side.

Advertisement

جماعت اسلامی کا کےالیکٹرک ہیڈ آفس پر دھرنا

سخت گرمی میں بد ترین لوڈشیڈنگ، کے الیکٹرک کی نا اہلی و ناقص کارکردگی اور وفاقی وصوبائی حکومت اور نیپرا کی بے حسی اور کے الیکٹرک کی مسلسل سر پرستی کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت جمعہ کو کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر زبردست احتجاجی دھرنا دیا گیا۔

جس میں شہر بھر سے بجلی سے محروم اور کے الیکٹرک کے ستائے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ دھرنے کے شرکاء نے کے الیکٹرک انتظامیہ وفاقی و صوبائی حکومت اور نیپرا کے خلاف پُر جوش نعرے لگائے۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ کے الیکٹرک کے خلاف سوموٹو ایکشن لیں،کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کا مسئلہ حل کروائیں اور عوام کو کے الیکٹرک کے مظالم،اووربلنگ و لوڈشیڈنگ سے نجات دلائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بدترین لوڈ شیڈنگ،اوور بلنگ،عوام سے لوٹ مار اور معاہدے کے مطابق پیداواری صلاحیت نہ بڑھانے اور ترسیلی نظام کو بہتر نہ کرنے پر کے الیکٹرک کا لائسنس فوری منسوخ کیا جائے، 17سال میں کے الیکٹرک کو فیول ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کھربوں روپوں دیئے جانے کا فارنزک آڈٹ کرواکر عوام کے سامنے رپورٹ پیش کی جائے بالخصوص بائیکو کمپنی سے حاصل کردہ فیول اس کی مد میں لیے جانے والے فیول ایڈجسٹمنٹ کو تحقیقات کا حصہ بنایا جائے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ کے الیکٹرک اور بائیکو کمپنی دونو ں آف شور کمپنی ابراج گروپ کی ملکیت رہی، وفاقی و صوبائی حکومتیں،نیپرا اور حکمران جماعتیں کے الیکٹرک کی سرپرستی بند کریں اس نجی کمپنی کو ماہانہ اربوں روپے کی سبسیڈی دینے کے بجائے اس سے کراچی کے عوام کے کلاء بیک میں واجب الادا 42ارب روپے واپس دلوائے جائیں، کے الیکٹرک نے عوامی مفاد کے حق میں فیصلوں کے خلاف عدالتوں سے جو اسٹے آرڈرز لیئے ہوئے ہیں ان سب کو ختم کیا جائے۔

دھرنے سے نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، امیر ضلع غربی مولانا مدثر حسین انصاری،امیر ضلع شمالی محمد یوسف، امیر ضلع وسطی وجیہ حسن،کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے نگراں عمران شاہد، جماعت اسلامی منارٹی ونگ کراچی کے صدر یونس سوہن ایڈوکیٹ ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں